خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد۵ 319 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء فرمایا: فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِہ مومن کی صفات کو کافر کی صفات سے کتنے نمایاں امتیاز کے ساتھ الگ کر کے دکھا دیا ہے۔اس حسد کے مقابل پر مومن کو حسد کی اجازت نہیں دی گئی۔اس جبر کے ذریعے مرتد کرنے کی مہم کے مقابل پر قرآن کریم نے جبر کے ذریعے مرتد کرنے کی مہم چلانے کی اجازت نہیں عطا فرمائی۔فرمایا جب تم یہ دیکھو کہ حسد کے ذریعے تمہارے خلاف جبری ارتداد کی مہم چلائی جارہی ہے فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا تم درگزر کرو اور عفو سے کام لو عفو سے کام لو اور درگزر کر و حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِہ یہاں تک کہ اللہ اپنے امر کو غالب فرمادے۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مومن کا کام بھلائیوں کے میدان سے ہٹنا نہیں۔بھلائیوں کے میدان میں جو اُس کے قدم جمے ہوتے ہیں۔ان میدانوں سے اگر اس کے قدم اکھڑ جائیں تو یہ اس کی شکست ہے۔اس لئے نیکیوں کے میدان میں ثابت قدم رہنا یہی مومن کے ہتھیار ہیں اور اگر مومن اپنی نیکیوں کے میدان میں ثابت قدمی دکھاتا ہے تو پھر دشمن کی شکست یقینی ہے کیونکہ پھر انسانی کوششوں کے ذریعے دین کا غلبہ نہیں ہوتا بلکہ اللہ خود اپنے امر کو غالب فرماتا ہے۔فرمایا پھر تم انتظار کر وشرط یہ ہے کہ نیکیوں کے اوپر تم نے ثابت قدمی دکھانی ہے ، نیکیوں کے اوپر استقلال دکھانا ہے، عفو سے کام لو در گزر سے کام لو اور جسم کے بیٹھ جاؤ اپنے موقف کے اوپر حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِ ؟ یہاں تک کہ اللہ اپنے حکم کو غالب کر دے۔اِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں دور آخر میں حاسد کے حسد سے بچنے کی دعا سکھائی وہاں حاسد کے حسد کے اظہار کے طریقے بھی ہمیں قرآن کریم نے بتا دیئے کہ کس کس طرح یہ حسد ظاہر ہوگا اور کس طرح یہ حسد انکار پر منتج ہو گا اور خدا تعالیٰ جتنے تم پر فضل فرما تا چلا جائے گا اُتنا ہی غیظ و غضب دشمن کا بڑھتا چلا جائے گا اور اس سب کے پیچھے حسد کا جذبہ کار فرما ہوگا کہ کیوں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بڑھاتا چلا جارہا ہے، کیوں ان پر فضل فرماتا چلا جا رہا ہے۔اور علاج کیا ہے عفو سے کام لیں انتقام سے کام نہ لیں درگزر سے کام لیں اور کامل یقین کے ساتھ اللہ کی طرف سے فتح اور غلبہ کے آنے کا انتظار کریں اور اللہ سے ان کے شر سے پناہ مانگتے چلے جائیں۔یہ مضمون تو بالکل کھلا کھلا اور واضح ہے۔ہر انسان کو یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ الہی جماعتوں کے خلاف ایک حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ پھر بالآخر حد سے زیادہ ظلم کے طریقوں پر منتج ہو جاتا