خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد۵ 298 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء نفس کو دیکھ رہا ہے اور خوب اچھی طرح اپنے اندرونے کو ٹولے اور محسوس کرے اور دیکھے اور کھنگالے۔معلوم تو کرے کہ وہ ہے کیا چیز۔اس حیثیت سے جو شخص اپنے نفس کو دیکھ لیتا ہے اس کو اپنے قریبی بھی اسی طرح دکھائی دینے لگتے ہیں جیسے اپنے دشمن دکھائی دینے لگتے ہیں۔آنکھ کوئی فرق نہیں کرتی پھر۔حسن اور بدی تو فرق کریں گے بہر حال حسن حسن نظر آئے گا اور بدی ، بدی نظر آئے گی۔لیکن آنکھ فرق نہیں کرے گی کہ حسن کو بدی دیکھنے لگ جائے اور بدی کو حسن دیکھنے لگ جائے۔پس آغاز اپنے نفس سے ہوگا۔جو شخص اپنے نفس کی حقیقت سے غافل رہتا ہے اور آنکھیں بند رکھتا ہے اور فرضی طور پر اپنے اوپر جھوٹے رحم کرتا چلا جاتا ہے اور اپنے دشمن پر جھوٹے ظلم کرتا چلا جاتا ہے یعنی ایسے ظلم جن کی کوئی حقیقت کوئی وجہ جواز نہ ہو وہ شخص یہ کہے کہ میں خدا کے نور سے دیکھ رہا ہوں یہ ناممکن ہیں ، بالکل جھوٹا دعویٰ ہے اور جو شخص اپنے اندر مختلف سلوک کرتا ہے، اپنے باہر مختلف سلوک کرتا ہے اُس کی یہ ٹیڑھی آنکھ پھر ہمیشہ ٹیڑھی رہتی ہے۔سارے معاملات میں ٹیڑھی جاتی ہے۔یہ نہ ممکن ہے کہ اندر کی آنکھ ٹیڑھی ہو اور باہر کی آنکھ سیدھی ہو۔چنانچہ اکثر معاملات میں خرابیاں فسادات غلط تنقیدات، ایک ظلم کو دوسری طرف منسوب کر دینا ، ایک اندھیرے کو روشنی کے منہ پر مارنا یعنی ہر چیز کو الٹ پلٹ کر کے سارے نظام کو تہس نہس کر دینا بر سارا مضمون تاریکی کا مضمون ہے۔روشنی کا مضمون ہی نہیں ہے اور یہ جو تاریکی اور روشنی کا فیصلہ ہے یہ ہر شخص کی ذات کے اندر اس کی پنہائیوں میں ہوتا ہے۔جو شخص اپنے نفس کی بصیرت اختیار کرلے پھر وہ دنیا میں چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔جو صاحب بصیرت نہیں اپنے نفس کے متعلق ، جو اپنے آپ کو غلط نگاہوں سے دیکھتا ہے۔جہاں وہ غلطیاں کرتا ہے وہاں وہ آنکھیں پھیر لیتا ہے۔جہاں وہ غلطی نہیں کرتا وہاں بڑھا چڑھا کر دیکھتا ہے اس کا سلوک پھر اپنے دوستوں اور اپنے دشمنوں سے اسی طرح فرق والا سلوک ہوجاتا ہے۔بعض لوگ میں نے دیکھے ہیں بظاہر بڑے نیک بھی ہیں، نمازی بھی ہیں۔کئی خوبیوں کے مالک ہیں خدا کے فضل سے لیکن نور اللہ سے دیکھنے کی جو امتیازی شان ہے وہ پوری طرح عطا نہیں ہوتی ان کو۔بعض لوگوں کے وہ دشمن ہو جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دوست ہو جاتے ہیں۔جو دشمن ہے خواہ وہ ویسے کتنا ہی نیک ہو اس کی چھوٹی سی کمزوری بھی اتنی ان کو بڑی دکھائی دینے لگتی ہے کہ وہ