خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد۵ 297 خطبه جمعه ۱۸ار اپریل ۱۹۸۶ء پر صحیح نہج پر وہ چل رہا ہے اور وہ بڑی سچائی سے اپنی طرف سے دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ بات غلط ہے تو یہ بتانا چاہئے کہ یہ بات یوں ہے فلاں لوگ گندے ہیں فلاں قسم کے لوگوں کی حرکتیں خراب ہیں اور وہ مسلسل اس تنقید میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔لیکن چونکہ قدم صدق نہیں ہوتا اس لئے پہچاننے والی آنکھوں کو وہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں قدم صدق نہیں ہے۔تنقید کی آنکھیں بھی ایک ہی قسم کے معاملات کو دو طریق سے نہیں دیکھ سکتیں اگر وہ خدا کے نور سے دیکھ رہی ہوں لیکن عجیب بات ہے کہ اکثر ناقدین کی آنکھیں ایک ہی قسم کے واقعات کو مختلف وقتوں میں مختلف طرح سے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔بعض لوگوں سے دل میں تعصب ہوتا ہے ان کی ہر حرکت میں وہ برائی ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں۔بعض لوگوں سے محبت کا تعلق ہوتا ہے وہاں وہی حرکتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔وہ نظر نہیں آ رہی ہوتیں اور جتنا جتنا تقویٰ کا معیار گرتا ہے یا نور خداوندی سے دوری ہوتی چلی جاتی ہے اتنا ن کی کمی کا دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔سب سے پہلی بات اپنے نفس کے حالات کو نہ دیکھنا ہے۔جن کو خدا کا نور عطا نہ ہو اُن کی نظر خواہ تنقیدی کی کیسی تیز کیوں نہ ہو وہ اپنی کمزوریوں کو نہیں دیکھ رہی ہوتی اور اس برائی میں اکثر انسان مبتلا ہیں۔کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا ہے۔یہ دنیا کے معاملات کے لئے تو ٹھیک ہے لیکن خدا کے نور کے چراغ تلے تو کوئی اندھیرا نہیں ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے سراج منیر کے نیچے تو کوئی اندھیرے کا سوال نہیں تھا بلکہ جتنا ان کے نیچے تھا اتنا ہی زیادہ وہ صاحب نور بنا۔تو اللہ کے چراغ تلے آنا تو نور کے قدموں کے نیچے آنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرماتے ہیں سچائی کے قدموں کے نیچے دیکھتا ہوں دنیا کو تو چراغ تلے اندھیرا تو مراد نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ جوان قدموں کے نیچے ہیں وہ سب سے زیادہ صاحب نور ہیں۔اس لئے جو شخص اللہ کے نور سے دیکھ رہا ہوسب سے زیادہ اسے اپنا اندرونہ دکھائی دینا چاہئے۔سب سے زیادہ اس کو اپنے نفس کی حقیقت سے آشنا ہونا چاہئے۔اگر نور کامل نہیں ہے تو درست ہے کہ کچھ خامیاں بھی اُس کو نظر آئیں گی کچھ تاریک گوشے بھی دکھائی دیں گے لیکن دکھائی ضرور دیں گے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ صاحب نور ہو اور اپنے نفس کے حالات سے غافل ہو۔اس لئے جماعت کو سب سے پہلے تو اپنے نفس کی طرف جھکنا چاہئے ان معنوں میں کہ اپنے نفس کی تنقید کو خدا کی آنکھ سے دیکھے۔اپنے نفس کے ساتھ ویسا معاملہ کرے جیسے اللہ کا نور اُس کے