خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد۵ 299 خطبه جمعه ۱۸ر اپریل ۱۹۸۶ء اپنے غصے کو پھر میری ذات کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ جس طرح ان کا دل چاہتا ہے کہ اس بدی کے نتیجے میں اس شخص کو پیس کر رکھ دیں، پاؤں تلے کچلیں اس کو ذلیل کریں، اسے خوار کریں۔اسی طرح میں بھی کروں، اسی طرح نظام جماعت بھی کرے اور اگر نہیں کرے گا تو پھر دیکھ لیا کہ انصاف نہیں ہے کہ اپنی دشمنیوں کو اپنی نفرتوں کو جماعت کے ذمہ داروں کی دشمنیوں اور نفرتوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا قدم صدق کا قدم نہیں ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے بہت زیادہ برائیاں ان کے دوستوں میں موجود ہوتی ہیں ان کو قطعاً کبھی و ہم بھی نہیں آیا کہ ان کو بھی سزاملنی چاہئے۔اپنی اولاد میں ہوتی ہیں ان کو کبھی و ہم بھی نہیں آتا کہ ان کو سزا ملنی چاہئے ، اپنی بیویوں میں ہوتی ہیں اپنے بچوں میں ، اپنے اندر اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔تو قَدَمَ صِدْقٍ کو درست کرو اُس کے بغیر تمہاری راہیں صحیح متعین نہیں ہوسکتیں۔اس کے بغیر نہ تمہارے آپس کے معاملات درست ہوں گے۔نہ خدا کے ساتھ تمہارے معاملات درست ہوں گے اور کوشش کرو کہ تمہارا قَدَمَ صِدْقٍ بڑا ہو اور اس کے فیض کے نیچے اور بھی لوگ آئیں تمہارے۔قَدَمَ صِدْقٍ کی برکت سے اور قومیں برکتیں پائیں اور یہ قدم تمہارے نور کی نسبت کے ساتھ بڑا ہو گا۔غالباً اس مفہوم کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بعض پرانے بزرگوں کے مریدوں نے یہ غلطی کی کہ ان کے قدموں کے ظاہری نشان بڑے کرنے شروع کئے اور بعض جگہ ہم نے دیکھا ہے کہ یہ فلاں بزرگ کا قدم ہے اور پوری چٹان کے اوپر ایک قدم آیا ہوا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں کچھ حقیقت ضرور تھی سمجھانے کے لئے لوگوں کو بتانے کے لئے اُن بزرگوں نے کوئی ایسی بات کی ہوگی کہ جس کے نتیجے میں یا ان کے عارف مریدوں نے کچھ ایسی بات کی ہوگی کہ جس کے نتیجے میں یہ محسوس ہوا ہو کہ ان کے قدم بڑے تھے اور بعد میں دنیا داروں نے جن کی نظریں عرفان سے عاری تھیں انہوں نے سمجھا کہ واقعہ ظاہری قدم بڑے تھے حالانکہ بزرگی کو قدموں سے کیا نسبت ہے؟ ظاہری قدموں کو تو عقل سے بھی الٹ کی نسبت ہے۔ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ پاؤں بڑے گنواروں کے اور سر بڑے سرداروں کے۔تو نیکوں کے پاؤں بڑے یہ تو عجیب سی بات ہے۔وہ سمجھ نہیں سکے۔یہ راز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن سے پا کر ہمیں سمجھایا کہ میں ایک عالم