خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 292

خطبات طاہر جلد۵ 292 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء ہیں وہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے اندر ایک نور کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔مسلسل یہ دعا کرتے چلے جاتے ہیں رَبَّنَا اتْمِمْ لَنَا نُورَنَا کہ اے ہمارے رب ! ہمارے نور کو تمام فرمادے، مکمل کر دے۔جتنا بھی ہمیں حاصل ہوا ہے اس سے زیادہ کی ہمیں ضرور تو نے استعداد بخشی ہوگی۔اس لئے ہمیں ایک مقام پر نہ کھڑا رہنے دے بلکہ اس نور کا اتمام فرما دے ، اسے مکمل کردے۔وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نِعْمَتِی (مائدہ:۴) کے مضمون کا بھی پہلو سمجھ آ گیا۔یعنی مومن تک جو مختلف درجات ہیں تعلق کے اُن میں آخری مقام ، مقام نبوت وہ مقام ہے جہاں انسان کا نور تمام ہو جاتا ہے اور اسے اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کامل نور عطا فرما دیتا ہے۔پھر استعدادوں کے فرق کی وجہ سے ان کے نور کی جلوہ گری میں بھی فرق دکھائی دینے لگتا ہے۔لیکن اونچے نیچے درجے پر جتنے بھی مومن ہیں ان سب کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق بھر پور نور عطا ہو تو سکتا ہے لیکن ان کی غفلتوں کی وجہ سے ان کی کوتاہیوں کی وجہ سے اکثر کا ظرف کچھ نہ کچھ خالی رہ جاتا ہے اور جوان میں سے صاحب فراست ہیں ، جن کو خدا خاص طور پر بصیرت کی آنکھ عطا فرماتا ہے۔وہ مسلسل اس دعا میں لگے رہتے ہیں۔رَبَّنَا اتْمِمْ لَنَا نُورَنَا۔اور یہ دعا کرنے والے کون ہیں ؟ فرمایا نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمُ ان کے آگے بھی نور چل رہا ہے، ان کے دائیں بھی نور چل رہا ہے اور ان کے بائیں بھی۔ایما نھم میں دایاں ہاتھ بھی مراد ہے اور دونوں ہاتھ بھی مراد ہیں یعنی ہر سمت انکی نور ہی نور ہے اور اس پر وہ تکبر اختیار نہیں کرتے۔ایک اور لطیف نکتہ اس بات پر سمجھ آیا کہ نور میں ہر طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔جس طرف بھی جاتے ہیں انہیں قَدَمَ صِدْقٍ بھی عطا ہو رہا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ جانتے ہیں کہ ہماری کوئی بھی حقیقت نہیں ہے اور یہ نور وہ سارا نور نہیں ہے جو خدا بندہ کو عطا فرما سکتا ہے۔اس کے علاوہ بھی نور ہے، اس کے علاوہ بھی جلا کے اور لطافتوں کے اور مراتب ہیں اور مقامات ہیں اور ایسی سمتیں ہیں جن سے ہوسکتا ہے ہم بالکل بے خبر ہوں۔تو تقویٰ کے نور پر صیقل ہونا یہ ساری زندگی بڑی محنت کا کام ہے اور اس کا آخری مرتبہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے۔انبیاء سے نچلے درجے کے جتنے لوگ ہیں وہ اپنے اپنے نور کے مقام کو بھی پوری طرح حاصل نہیں کر سکتے جو ان کے لئے مقدر ہے بلکہ کچھ نہ کچھ اس سمت میں بڑھتے رہتے