خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 293
خطبات طاہر جلد ۵ 293 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء ہیں اور ساری زندگی ان کے نور کے حصول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اگر نور مختلف ہے تو قَدَمَ صِدْقٍ بھی مختلف ہوگا۔اس کا مقام، اس کا مرتبہ اس کا حجم ، اس کی وسعتوں میں ضرور فرق ہوگا اور یہ راز ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھا دیا جب یہ فرمایا کہ میں ایک وسیع اور عظیم دنیا کو اپنے سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں کہ میری سچائی کے قدم اتنے وسیع ہیں۔وہ قَدَمَ صِدْقٍ یا سچائی کے قدم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوا ہے۔وہ اتنا بڑا ہے اتنا وسیع ہے کہ عالم کے عالم کو ایک وسیع دنیا کو ان قدموں کے نیچے دیکھ رہے ہوں۔تو قَدَمَ صِدْقٍ بھی ایک قدم نہیں ہے کہ ہر مومن سمجھے کہ مجھے قَدَمَ صِدْقٍ عطا ہو گیا۔قَدَمَ صِدْقٍ کے بھی مختلف مراتب ہیں مختلف حجم ہیں مختلف اس کی وسعتیں ہیں اور ان کا براہ راست تعلق اس نور کی وسعت سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے نصیب ہوتا ہے۔اس لئے یہ لوگ جو راستباز کہلاتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا نور تمام فرما تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہایت منکسر المزاج بندے ہوتے ہیں، وہ اپنی راست بازی کے باوجود سمجھتے ہیں کہ ہمارے اندر بہت سی کمزوریاں ، بہت سے خلا ہیں، بہت سے اندھیرے ہیں جو باقی ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارا نور کامل نہ ہو جائے ہماری زندگی کا ہر گوشہ منور نہیں ہوسکتا، ہمارا ہر قدم راست اقدام نہیں کہلا سکتا۔اس لئے وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت کی طرف امید کی نگاہوں سے دیکھتے چلے جاتے ہیں اور انکسار کے ساتھ یہ التجا کرتے چلے جاتے ہیں اے اللہ ! ہمارے نور کو بڑھا۔نور کی آنکھ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے جسے حضرت اقدس محمد مصطفی علی فرماتے ہیں۔ینظر بنور اللہ اس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔یہ کوئی ایسی فرضی چیز نہیں جیسا کہ نور کا تصور عموماً غیر احمدی سوسائٹی میں پایا جاتا ہے کہ کوئی ایسی فرضی ماوراء الطبیعات چیز ہے کہ جس کے متعلق ایک موہوم سا تصور تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی حقیقت اس کی کنہ کو ہم پانہیں سکتے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ نور کا مضمون بہت ہی واضح ہے، بہت ہی کھلا کھلا ہے اور روز مرہ کی زندگی میں ہم میں۔ہر شخص اگر چاہے تو اپنے نور کی پہچان کر سکتا ہے، اسے جان سکتا ہے، اور نور کی پہچان اس کے قدموں سے ہوگی۔ان دونوں کا چونکہ آپس میں گہرا تعلق ہے جہاں وہ روزانہ غلط جگہ پر قدم رکھتا ہے وہیں اس کو محسوس ہو جانا چاہئے کہ یہاں میرے نور نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔جہاں وہ صحیح مقام پر قدم رکھتا