خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 291
خطبات طاہر جلد۵ 291 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء غلاموں کو بھی وہ نور میں عطا کر چکا ہوں۔چنانچہ فرماتا: نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْلَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحريم:9) کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلام ایسے ہیں کہ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ان کا نوران کے آگے آگے چلتا ہے وَ بِأَيْمَانِهِمْ اور ان کے دائیں ہاتھ پر ان کے ساتھ رہتا ہے۔يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا اور وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل فرمادے وَاغْفِرْ لَنَا اور ہماری بخشش فرما۔اِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ يقينا تو ہر چیز پر قادر ہے۔یہی وہ نور ہے جس کا ذکر حضرت اقدس محمد مصطفی علی ان الفاظ میں فرماتے ہیں: اتَّقُوا فِرَاسَةِ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ (ترمذی کتاب التفسیر تفسیر سورة الحجر حدیث نمبر ۳۰۵۲) کہ اے لوگو! مومن کی فراست سے ڈرا کرو۔یقینا وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔گذشتہ جو خطبے میں میں نے تقویٰ کی آنکھ کی بات بیان کی تھی کہ وہ اللہ کی آنکھ ہے یہی مراد ہے اس سے کہ مومن کی فراست سے، اس کے فہم سے اور اس کے حد ادراک سے ڈرو۔اس کی نظر سے کوئی چیز بھی تمہاری پوشیدہ نہیں رہے گی کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔لیکن جہاں تک اللہ کے نور کا تعلق ہے وہ تو لا محدود ہے اور وہ نور ایسی چیز تو نہیں ہے کہ جو ایک اور دوسرے کے ساتھ فرق فرق سلوک کرنے والا ہو۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مومن کا نور بصیرت اور ہے دوسرے مومن کا نور بصیرت کچھ اور ہے۔ایک کا مقام اور ہے اور دوسرے کا مقام اور ہے اور ان کے نوروں میں فرق ہے۔یہ راز قرآن کریم کی آیت ہم پر کھول رہی ہے کہ در حقیقت اگر چہ اللہ کے نور سے مومن دیکھتا ہے لیکن ہر شخض کے اندر اس نور کو اختیار کرنے کی ایک استعداد عطا ہوئی ہے اور وہ استعداد ایک خاص حد تک نو کو اختیار کرنے کی توفیق بخشتی ہے اور اکثر لوگ اس استعداد کے ہوتے ہوئے بھی خدا تعالیٰ سے پورا نور حاصل نہیں کرتے اور اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ وہ نور بصیرت ہمیں خدا کی طرف سے عطا ہو گا لیکن بعض لوگ جو زیادہ فراست رکھنے والے ہیں جو اس مضمون کی حکمت کو سمجھتے