خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد۵ 290 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء اگر یہ دلیل کمزور ہوئی تو جماعت احمد یہ اس کی ذمہ دار ہوگی۔جماعت احمد یہ خدا کے حضور اس کے لئے جوابدہ ہوگی۔جب تک آپ قَدَمَ صِدْقٍ اختیار نہیں کرتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صدق کی گواہی دنیا پر ثابت نہیں کر سکتے اور اگر دنیا آپ کے قدم کو دیکھ کر ٹھوکر کھائے گی تو آپ بھی خدا تعالیٰ کے حضور اسی طرح جوابدہ ہوں گے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم معلوم کریں کہ یہ قَدَمَ صِدْقٍ عطا کیسے ہوتا ہے۔قَدَمَ صِدْقٍ کا تعلق یہ تو ایک بالکل واضح اور کھلی بات ہے نظر کی صفائی اور نظر کی سچائی سے ہے۔جب تک نظر صاف اور ستھری نہ ہو ، جب تک نظر کچی نہ ہو قَدَمَ صِدْقٍ عطا ہو ہی نہیں سکتا۔قدم تو ایک اندھی چیز ہے۔قدم تو پیروی کرتا ہے اس نور کی جو نور نظر کہلاتا ہے۔اگر وہ نور قدموں کی رہنمائی کر رہا ہے تو ہمیشہ وہ قدم صحیح جگہ پڑیں گے۔دیکھیں وہ قدم جو دن کو صحیح رستہ پر پڑتے ہیں کیچڑ کی پہچان خشک رستے سے کر لیتے ہیں، صاف رستے کو غلاظت سے ممتاز کر کے دکھاتے ہیں تو اس کی وجہ نور نظر ہی ہے۔دن کو چونکہ نور نظر واضح ہوتا ہے اس لئے قدم ہمیشہ سچائی پر پڑتا ہے۔لیکن رات کے دھند لکے میں اور جوں جوں یہ اندھیرا گہرا ہوتا چلا جائے انسان کے لئے یہ امکان یہ احتمال بڑھتا چلا جاتا ہے کہ اس کا قدم غلط جگہوں پر ہی پڑے اس لئے براہ راست قدم صدق کا نور نظر سے تعلق ہے۔جب تک نور درست نہ ہو اس وقت تک قدم درست نہیں ہو سکتے۔اس لئے وحی سے بھی اس کا تعلق ہے۔ساری چابی اس معمے کی ان الفاظ میں تھی۔أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ۔اگر محمد مصطفی عملے کو وحی کا نور عطا نہ ہوتا تو ہر گز یہ کثرت کے ساتھ قَدَمَ صِدْقٍ جو عطا ہوئے آپ کے غلاموں کو یہ عطا نہیں ہو سکتے تھے۔وہ نور ہے جس نے آپ کی ذات کو نور بنا دیا اور قرآن کریم میں متعدد جگہ یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نور بن چکے تھے۔وہ کتاب جو آپ پراتاری گئی وہ بھی نور تھی اور وہ کتاب جس پر اتاری گئی وہ بھی نو رتھا۔جس کا مجسم وجود نور ہو چکا تھا اور یہ وحی کی برکت سے ہے۔لیکن یہ برکت آگے آپ کے غلاموں کو عطا ہوسکتی تھی اور آپ نے عطا فرمائی۔یہ ہے وہ خوش خبری کا مضمون جس کو سمجھنے کے بعد انسان کو قَدَمَ صِدْقٍ کے اختیار کے راز معلوم ہو جاتے ہیں۔یہ وحی کا نور حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کی ذات تک محدود نہیں رکھا گیا۔بلکہ آگے آپ کے غلاموں کو بھی وہ نور عطا ہوا اور خدا تعالیٰ نے واضح اطلاع فرمائی آپ کو کہ آپ کے