خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد۵ 284 خطبہ جمعہ ا اراپریل ۱۹۸۶ء علموں کو تھام لیا اور گرنے نہیں دیا جب تک ان کی گردنیں نہ کٹیں اور سرنہ لڑھک گئے۔اس طرح اے خدا ہم ان تیری رحمتوں اور فضلوں کی حفاظت کریں گے جو اپنی راہ میں پگھلنے والے دلوں کی صورت میں تو نے ہم پر عطا کئے۔وہ باب رحمت جو تو نے کھولے ہیں ، اے خدا وہ دن ہم پر کبھی نہ لانا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے ان بابوں کو بند کرنے والے ہوں۔ان دروازوں کو اور کھول دے اور وسیع کر دے! ہر سمت سے ہر موسم میں تیری رحمت اور فضل کی ہوائیں ہم پر چلنے لگیں ہماری سمت میں جاری ہوں اور تیری برکتوں کی بارشیں ہم پر نازل ہوں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی جمعہ کے معابعد سنتوں سے قبل میں چند نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔سب سے پہلے تو برادرم مکرم پر و فیسر خلیل احمد صاحب ناصر کی نماز جنازہ ہے۔یہ اولین واقفین زندگی میں سے تھے، خصوصاً اس دور کے واقفین میں جب یہ دار المجاھدین قائم کیا گیا اور یورپ میں تبلیغ کے لئے خاص طور پر نو جوانوں کو پکارا گیا۔ان میں سامنے آنے والوں میں یہ پہلے تھے جنہوں نے نام درج کروایا۔بہت ہی خلیق، علم دوست اور بہت غیر معمولی ذہانت رکھنے والے تھے۔سلسلہ سے بہت محبت اور پیار تھا اگر چہ بعض مشکلات کی وجہ سے وقف کے تقاضے کو من وعن نہیں نباہ سکے اور زندگی کے آخری حصہ میں با قاعدہ واقفین کی فہرست میں شامل نہیں رہے لیکن ایسا اجازت سے کیا۔بھاگ کر یا باغی ہو کر نہیں اور اس کا بھی دل پر اتنا بوجھ تھا کہ گزشتہ سال ان کا ایک بہت ہی درد ناک خط مجھے موصول ہوا کہ میں اتنا تکلیف میں ہوں، دن بدن میرا یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر چہ خلفاء نے مجھ سے شفقت کا سلوک فرمایا، مجھے قربانیوں سے محروم بھی نہیں رکھا اور دینی خدمت لینے کی اجازت بھی دی جماعت کو حسب توفیق حصہ بھی لیتا رہا لیکن پھر بھی میں اپنے آپ کو مجرم سمجھ رہا ہوں کہ جن وقف کی زنجیروں میں میں نے باندھا تھا اب میں ان میں بندھا ہوا نہیں ہوں۔اس لئے میری ایک تمنا ہے کہ میرے مرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے مجھے ایک خط لکھ دیں کہ میں تمہیں دل سے معاف کرتا ہوں اور شرح صدر کے ساتھ تمہاری اس حرکت کو نظر انداز کر کے تمہارے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے۔چونکہ میں جانتا تھا کہ بڑی خدا تعالیٰ کے فضل سے فدائی روح رکھتے تھے اور ہمیشہ جب بھی خدمت کے لئے بلایا گیا انہوں نے لبیک کہا اور پورے تن من دھن سے فدا ہوئے ہیں۔میں نے پھر