خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد۵ 283 خطبہ جمعہ ا اراپریل ۱۹۸۶ء کا احساس نہیں“۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۳۰) حضرت رسول اکرم علیہ لفظ فتح کو ایک اور عظیم الشان رنگ میں بھی استعمال فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمُ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ، اَبْوَابُ الرَّحْمَةِ - ( ترندی - کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۳۴۷۱) کہ تم میں سے جس پر دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے۔پس فتح کا اس سے بہتر تصور نہیں باندھا جاسکتا۔پس اے احمد یو! تمہیں مبارک ہو کہ اس دور ابتلاء نے تم پر دعا کے دروازے کھول دیئے۔وہ گھر جو دعاؤں سے نا آشنا ہو چکے تھے وہ گھر بھی دعاؤں کی آماجگاہ بن گئے۔وہ دل جو دعاؤں سے غافل تھے ان کی گہرائیوں سے بلکتی ہوئی، درد میں ڈوبی ہوئی دعائیں اٹھتی ہیں۔وہ آنکھیں جو آنسوؤں سے نا آشنا تھیں اس دور ابتلاء نے ان آنکھوں کو آنسو بخشے۔یہ ایک فرضی قصہ نہیں ، ایک ایسی حقیقت ہے جو آج تاریخ کے پردوں پر ایسے حروف میں لکھی جا رہی ہے جو انمٹ حروف ہیں۔بکثرت احمدیوں کے ایسے خطوط مجھے ملے ہیں جو لکھتے ہیں کہ آپ سوچ نہیں سکتے کہ ہمارا دل پہلے کیسے منجمد دل تھا۔کبھی خدا کے نام پر اس میں تحریک پیدا نہیں ہوتی تھیں ،کبھی جنبش نہیں آتی تھی کبھی ہماری آنکھیں اللہ کا نام لے کر تر نہیں ہوتی تھیں اور اب تو حالت یہ ہے کہ بات بات پر رونا آتا ہے، خدا کے ذکر پر آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔دعاؤں کے دروازے جس قوم پر کھول دیئے گئے ہوں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں کہ تم پر خدا کی رحمتوں کے دروازے کھولے جاچکے ہیں۔پس وہ قوم جس پر خدا کی رحمتوں کے دروازے کھول دیئے گئے ہوں اگر وہ دنیا کی ادنیٰ فتوحات سے متاثر ہوکر ان کے سامنے جھکنے لگے اور ان کے رعب کو قبول کرنے لگے تو وہ بڑی ہی بدقسمت لوگ ہونگے۔اس لئے خدا کی رحمتوں کی قدر کریں ، خدا کے فضلوں کی قدر کریں ، ان کو اپنے سینے سے لگائے رکھیں اور یہ عہد کریں کہ اگر خدا ان حالات کو بدل بھی دے گا تو یہ دولتیں جو آج ہمیں نصیب ہوئی ہیں ان کو ہم اپنے سینے سے چمٹائے رکھیں گے۔ان صحابہ کی طرح جس نے اسلام کے علم کی حفاظت کی خاطر اپنے بازو کٹوائے ، اپنی گردنیں کٹوائیں اور جب بازو نہیں رہے تو دانتوں میں ان