خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد۵ 285 خطبہ جمعہ ا ار اپریل ۱۹۸۶ء ان کو اس قسم کی تحریر لکھ دی اور بہت ہی پھر خوشی اور تسکین کا خط آیا اور عجیب بات ہے کہ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی پھر ان کو یہ مہلک بیماری ہوگئی جس کو ڈاکٹروں نے کہا کہ کینسر ہے اور اب اس سے بچنا محال ہے اور اللہ کا فضل ہے کہ اس مرض الموت میں تھے کہ اس سے پہلے پہلے ان کے دل میں یہ تحریک بھی پیدا ہوگئی اور میری طرف سے ان کو جواب بھی مل گیا۔لیکن اس مرض میں بھی وہ جو پہلے وعدے کئے ہوئے تھے خدمت دین کے ان کو نبھایا۔بعض لیکچرز میں شمولیت کا عہد کیا ہوا تھا، ان میں اس بیماری کی حالت میں بھی ہسپتال سے نکل کر گئے اور بالکل پرواہ نہیں کی تکلیف کی۔ان کے لئے بطور خاص دعا کی تحریک کرتے ہوئے چندا اورمخلصین کے جنازے بھی ہیں جو اسی جنازے کے ساتھ پڑھائے جائیں گے۔مکرمہ شگفتہ رانی صاحبہ بنت مکرم چوہدری عبدالعزیز صاحب، چھوٹی عمر میں بے چاری وفات پا گئیں ، دل کا دورہ پڑا ہے ان کو۔ابوظہبی کے عبدالعزیز صاحب اچھے مخلص دوست ہیں ان کی بیٹی تھی جوان جو فوت ہو گئیں۔مکرم محمد منیر ہاشمی صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی پوسٹ ماسٹر ایبٹ آباد۔یہ ہمارے خدمت درویشاں کے پرانے کارکن ہیں مخلص مختار احمد ہاشمی ان کے والد۔مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چوہدری محمد عظیم صاحب باجوہ بڑے معروف ہیں جماعت میں ، خدا تعالیٰ کے فضل سے جب تقسیم ہند کے دوران خطرات تھے مسلمانوں کو تو قادیان سے اردگرد کے دیہات میں جا کر مسلمانوں کا دفاع کرنے میں انہوں نے عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں اور اس قدر دلیری کے ساتھ انہوں نے مسلمان دیہات کا دفاع کیا ہے کہ وہ تو Legends بن گئی ہیں بڑی حکمت کے ساتھ اور بڑی دلیری کے ساتھ۔سارا خاندان ہی خدا کے فضل سے مخلص ہے لیکن یہ پہلو ان کا خاص ایسا تھا جو ان کو امتیاز بخشتا ہے۔تو ان سب کی نماز جنازہ بعد نماز جمعہ ہوگی۔