خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 22

خطبات طاہر جلد۵ 22 22 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء صفات کو منسوب نہیں کر رہے ہوتے اور ایسی غفلت کی حالت میں زندگی گزار دیتے ہیں جیسے کولہو پر بیٹھا ہوا انسان بالآخر اس کی آواز کوسنا بند کر دیتا ہے۔اگر کولہو پر بیٹھا ہوا انسان کولہو چل رہا ہو جولوگ اس پر بیٹھتے ہیں ان کو نیند آجائے تو آواز بند ہونے پر ان کی آنکھ کھلتی ہے۔یعنی بظاہر عام حالات سے بالکل الٹ بات ہے کیونکہ ایک خاص قسم کے شور کے وہ عادی ہو گئے ہیں وہ شور ہوتو وہ غفلت کی حالت میں چلے جاتے ہیں وہ شور نہ ہوتو وہ بیدار ہو جاتے ہیں۔اسی طرح بعض دفعہ صفات باری تعالیٰ جب اپنا جلوہ روکتی ہیں تو تب آنکھیں کھلتی ہیں انسان کی ایک زمیندار ایک فصل کو محبت اور پیار کی نظر سے دیکھ رہا ہے کہ کتنی عظیم الشان فصل ہے اور محسوس ہی نہیں کر رہا کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے جلوے اس میں ہیں ، خدا تعالیٰ کی قدرت کی شان اس میں نمایاں ہورہی ہے، جلوہ دکھا رہی ہے۔خدا تعالی کی اور بہت سی صفات ہیں جو جلوہ دکھا رہی ہیں لیکن اچانک خدا تعالیٰ کی حفاظت اور رحمت کا سایہ ایک لمحہ کے لئے اٹھتا ہے اس فصل سے اور ژالہ باری کا وہ شکار ہو کر ایک دم ختم ہو جاتی ہے، کچھ بھی اس کا باقی نہیں رہتا تو سارا سال یا نصف سال کم سے کم خدا تعالیٰ کی جن صفات کو محسوس کرنے سے غافل رہا تھا جب ایک لمحہ کے لئے ان صفات نے جلوہ دکھانا چھوڑا تو اس کی توجہ اس کی طرف مبذول ہوگئی اور وہ بھی ہر ایک کی نہیں۔جو خدا سے ڈرنے والے لوگ ہیں وہ بیدار ہو جاتے ہیں ایسے موقعوں پر اور وہ مجھتے ہیں کہ دراصل سب کچھ اللہ کے فضل کے ساتھ جاری ہے۔یہ مضمون خود بھی خدا تعالیٰ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بہت کھول کر بیان کرتا ہے یہاں تک کہ ہمارے آگے ، ہمارے پیچھے خدا تعالیٰ کی حفاظت کرنے والے، قانون جاری کرنے کے لئے فرشتے موجود ہیں اور ایک لمحہ بھی ہم اگر خدا کی حفاظت سے باہر ہو جائیں تو ہمارے لئے فوری ہلاکت ہے۔ایک لمحہ کے لئے بھی ہم بچ نہیں سکتے اس کے بغیر۔تو صفت قدیر نے یہ سارے جلوے دکھا رکھے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اکثر غفلت کی حالت میں گزر جاتے ہیں زندگی گزار دیتے ہیں اور جن نشانوں سے اپنے رب تک پہنچ سکتے تھے ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔میرا خیال ہے اب وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے میں اس کو اب اسکے بعد ختم کرتا ہوں۔خدا کرے دو خطبوں میں یہ مضمون حل ہو جائے لیکن دو نہیں تو تین میں ہو جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے پیار اور محبت کا ذکر ہے مزہ ہی آتا ہے بہر حال یعنی خدا کی