خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 21
خطبات طاہر جلد۵ 21 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء بھی شروع ہو جاتے ہیں اور جتنی دیر تک ان کے لئے اگنے کی ضرورت ہے ، جتنا لمبا ہونے کی ضرورت ہے اس وقت تک وہ حکم نافذ العمل رہتا ہے کہ بڑھو اور پیدا ہو اور جس وقت وہ ایک حد مقررہ تک پہنچ جاتے ہیں تو خدا کی دوسری تقدیر جو کم کرنے والی تقدیر بھی ہے ( قدر کا ایک معنی ہے کم کرنا قَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ رزق کم کر دیا۔تو خدا کی یہی قدرت کسی نئی صفت کی ضرورت پیش نہیں آتی ، اسی قدرت کا دوسرا پہلو جلوہ گر ہو جاتا ہے اور وہاں قدیر کے معنی یہ ہیں کہ اب اس کو کم کرو۔چنانچہ دانت کی Growth بڑھتے بڑھتے ایک مقام پر جا کر رک جاتی ہے اور رکتی کے معنی صرف یہ ہیں کہ کم ہو جاتی ہے ورنہ روزانہ گھسائی پٹائی اتنی زیادہ ہوتی ہے ہمارے اعضاء کی کہ اگر نشو ونما بھی ساتھ جاری نہ رہے تو ہم تو چند دنوں میں گھس پٹ کر ختم ہو جائیں۔کہتے ہیں ایک انسان سات سال میں بالکل نیا جسم اختیار کر لیتا ہے کیونکہ سات سال کے اندر جتنا بھی وہ اپنے آپ کو استعمال کرتا ہے عملاً اس کا پہلا وجود سارا ہی غائب ہو چکا ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کی قدرت کے دونوں پہلو بیک وقت جلوہ گر ہیں قدیر بمعنی نشو و نما پیدا کرنے والے کے بھی اور قدیر معنی کم کرنے والے کے بھی اور پھر توازن پیدا کرنے والے کا معنی بھی عمل پیرا ہے، پھر وقت معین کرنے والے کا معنی بھی عمل پیرا ہے، پھر وقت معینہ پر نئی چیزوں کا ظہور پذیر ہونا یہ معنی بھی عمل پیرا ہے اور انسان غفلت کی حالت میں زندگی گزار دیتا ہے اور سوچتا ہی نہیں کہ خدا کی صرف ایک صفت کا ہی اگر وہ احسان ادا کرنے کی کوشش کرے تو ساری عمر سوچوں میں گزار دے، ساری عم تحقیق میں گزار دے یا دوسروں کی تحقیق سے استفادہ کی کوشش کرے تب بھی وہ ایک صفت الہی باری تعالیٰ کے سمندر کو طے نہیں کر سکتا۔کیوں بچہ بڑھتا ہے اور ایک وقت پر جا کر وہ بڑھنا بند کر دیتا ہے۔کیا یہ اتفاقی حادثات ہیں؟ کیوں خون کے سیل Duplicate ہوتے ہیں بڑھتے ہیں اور اس کے بعد پھر رک جاتے ہیں بڑھنا بظاہر اور صرف اتنا بڑھتے ہیں کہ جتنا خون کے توازن کو برقرار رکھ سکیں۔قد صرف اتنا بڑھتا ہے جتنا گھسائی پٹائی کے مقابل پر اس کو برابر رکھنے کی ضرورت ہے۔یہ سارے خدا تعالیٰ کی صفت تقدیری کے منظر ہیں جو عملاً ہر تخلیق کے مناظر میں نظر آتے ہیں۔اور عملاً ان میں سے اکثر سے ہم اندھے رہتے ہیں یعنی دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ رہے ہوتے۔دیکھتے ہوئے بھی خدا کی طرف ان