خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد۵ 223 خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء ایک صفت کو بیان کرنے میں اگر ہم دیر لگا دیں تو اس میں حرج کیا ہے۔صرف یہ جلدی ہوتی ہے کہ جلدی مضمون بیان ہوں تا کہ بعض دوسرے مضامین جن کی ضرورت پیش آتی ہے وہ روک نہ بیچ میں بن جائیں جس کو پنجابی میں کہتے ہیں ڈیک ٹوٹنا کہ ڈیک نہ ٹوٹ جائے۔اس لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ جلدی جلدی بعض صفات کا بیان جہاں تک ممکن ہے مکمل کرلوں۔بہر حال چونکہ اب وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے مجھے اس مضمون اب کو ختم کرنا پڑے گا صرف اس حصے کو جس کو میں نے چھیڑا ہے بیان کرتا ہوں۔الْقَدَرُ وَ التَقْدِيرُ تَبْنُ كَمِيَّةِ الشَّيْءِ کسی چیز کی کمیت کی وضاحت تَقْدِيرُ اللهِ الا شَيَاء عَلَى وَجْهَيْنِ اللہ کی تقدیر ان معنوں میں دو طرح سے ظاہر ہوتی ہے۔اَحَدُهَما بِعَطَاءِ القُدْرَةِ وَالثَّانِي بِاَنْ يَّجْعَلَهَا عَلَى مِقْدَارٍ مَخْصُوصٍ وَجْهِ مَخْصُوصِ حَسْبَ مُقْتَضَةِ الْحِكْمَةُ یعنی کام کرنے کی قدرت دے کر بھی اللہ تعالیٰ اپنی صفت القدر و التقدیر کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ دوسرں میں بھی کام پیدا کرنے کی قدرت پیدا کرتا ہے اور اس پہلو سے بھی کہ حکمت کے تقاضاکے مطابق اشیاء کو مخصوص اندازے اور مخصوص طرز پر بنا تا ہے یعنی جو کچھ بھی وہ کرتا ہے حکمت کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کے کرتا ہے اور اس کے ہر فعل کے ہر پہلو میں حکمت کارفرما دکھائی دے گی۔یہ مضمون الگ ہے کہ حکیم کیا ہے وہ تو اس صفت حکیم کے وقت میں انشاء اللہ تفصیل سے بیان کروں گا۔یہاں جو اس کا پہلے حصہ ہے اس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔کام پر صرف قدرت پانا ہی انسان کو قدر نہیں بنا دیتا بلکہ اس قدرت کو دوسروں میں پیدا کرنے کی اہلیت بھی صفت قدیری کا حصہ ہے۔پس جماعت احمدیہ کو اپنی صفات کو دوسروں میں جاری کرنے کی اہلیت بھی اختیار کرنی چاہئے۔اپنی صفات حسنہ کو اپنے بچوں میں اپنے اہل وعیال کے علاوہ اپنے دوستوں میں بھی جاری کرنے کی قدرت حاصل ہونی چاہئے اور اپنے ماحول اپنے گردو پیش میں بھی ان صفات کو جاری کرنے کی قدرت حاصل ہونی چاہئے۔تب آپ صحیح معنوں خدا تعالیٰ کی صفت قدیری کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔میں جب کہتا ہوں روانہ ہو جائیں گے تو مراد ہے فَفِرُّوا إِلَى اللهِ کے حکم پر عمل