خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 20

خطبات طاہر جلد۵ 20 20 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء بگڑے۔وہاں کھیت خود بولتا ہے ، شکایت کرتا ہے۔میں زمیندار عملاً رہا ہوں بڑا المبا عرصہ مجھے پتہ ہے، میں تو پھرتا تھا تو کھیتوں کی شکایت سنتا تھا، دیکھتا تھا کہیں زیادہ کھا د سے اتنا زیادہ نشو ونما ہوئی کہ وہ فصل نشو ونما کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ہواؤں سے گرگئی۔یاد یسے ہی Vegetative Growth یعنی اس کی سبزی کی نشو ونما زیادہ ہوگئی ، پھل کے قابل نہ رہی اور جہاں کم تھی وہاں چہرے کی زوری بولتی تھی کہ ہمیں کم طاقت دی گئی ہے۔تو صفت قدیری میں یہ جو توازن کی شان ہے اس میں بہت گہرے سبق ہیں ہمارے لئے۔ہم اپنی ذات میں توازن پیدا کریں اور پھر اس توازن کو اپنی تخلیقات میں جاری کریں تو عظیم الشان ترقی کی راہیں جماعت احمدیہ کے لئے کھل سکتی ہیں۔القَدَرُ القَدْرُ کے مقابلہ پر لفظ ہے القَدَر ( دال کی زبر کے ساتھ ) جس کا معنی ہے مَا يُقَدَ اللهُ مِن قَضَاءِ وہ قضاء جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے۔عَرَفَهُ بَعْضُهُمْ بِأَنَّهُ تَألف الارادة بالاشیاء فِی اَوْقَاتِهَا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اشیاء کا اپنے اوقات پر وقوع پذیر ہونا یہ قدر ہے۔تو یہ ایک اور پہلو بھی ہے جو بہت اہم ہے خدا تعالیٰ کی صفت قدیری کو سمجھنے کے لئے کہ جو چیزیں بھی رونما ہوتی ہیں وہ سب اپنے وقت پر رونما ہوتی ہیں۔یعنی ہر چیز کے رونما ہونے کے لئے ایک وقت معین اور مقدر ہے۔مثلاً جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دانت نہیں ہوتے لیکن چونکہ وہ خدا کی قدرت سے پیدا ہوا ہے اس لئے ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ وہ چیز جس کی اس کو آئندہ ضرورت پیش آنے والی ہے عین اس وقت پیدا ہوگی جب اس کو ضرورت پیش آئے گی۔بعض اور صفات سے بظاہر وہ عاری نظر آتا ہے اس میں نہ اُنا تا والی بات ہے نہ ذکران والی بات ہے۔نہ اس میں نر کی صفات ہیں نہ مادہ کی صفات ہیں لیکن ہرانسان جانتا ہے کہ چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوا ہے اس لئے تقدیر کے معنی یہ ہیں کہ اب وقت مقررہ پر کچھ اور چیزیں ظاہر ہوں گی داڑھی نہیں ہے تو وہ داڑھی بھی ظاہر ہوگی۔اور بہت سی صفات ہیں جو رفتہ رفتہ ترقی کریں گی۔تو جب دانت کی طلب پیدا ہوتی ہے ، جب دانت کا اقتضاء پیدا ہوتا ہے تو دانت اگنے شروع ہو جاتے ہیں اور جب ان دانتوں کے جھڑنے کا اقتضاء پیدا ہوتا ہے تو وہ دانت جھڑ نے لگ جاتے ہیں اور جب ان کی جگہ بہتر اور نسبتاً لمبے رہنے والے دانتوں کا وقت آتا ہے تو پھر وہ ساتھ اُگنے