خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 260

خطبات طاہر جلد ۵ 260 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء انسانی فطرت ہے۔ایک غریب آدمی جس کو سو روپے ملتے ہیں۔وہ چھ روپے دیتا ہے تو اس کے نزدیک چھ روپے باوجود غربت کے چھ روپے ہی ہوتے ہیں اور اس کے لئے چھ روپے دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔صرف یہی بات نہیں اور بھی وجوہات ہیں۔ایک بہت بڑی وجہ غریب کے معیار قربانی کا بلند ہونا ہے جو مقابلہ کی وجہ سے بھی اس میں پیدا ہوتی ہے۔جب وہ امیروں کو غیر معمولی طور پر رقمیں دیتا ہوا دیکھتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ فلاں نے ہزار دیا اور فلاں نے دس ہزار دیا تو وہ اپنے چھ میں کمی کرنے کی پھر استطاعت ہی نہیں پاتا۔ایسا شرمندہ ہوتا ہے وہ چھ روپے دیتے ہوئے بھی کہ ساتھ استغفار کر رہا ہوتا ہے کاش مجھ میں توفیق ہوتی تو میں اس سے زیادہ دیتا۔تو نفسیاتی بہت سے پہلو ایسے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غریب کے تقویٰ کی حفاظت فرما دی ہے اور ان امور میں امیر غریب کے مقابل پر دل کا بہت زیادہ غریب ثابت ہوتا ہے۔تبھی قرآن کریم نے جہاں مالی قربانی کا ذکر فرمایا، وہاں مالی غربت کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ دل کی غربت کا ذکر فرمایا۔فرمایا وَمَنْ يُوْقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر : ۱۰) وہ لوگ جو دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں اور جو دل کے غریب نہیں ہوتے۔وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نزدیک بہت بڑی فلاح پانے والے ہیں۔پس جہاں تک چندوں کا تعلق ہے وہاں فیصلہ کن امر یہ نہیں ہوتا کہ کسی کے پاس ظاہری دولت کتنی ہے بلکہ فیصلہ کن امر یہ ہوتا ہے کہ دل کی دولت کسی کے پاس کتنی ہے اور اس پہلو سے یہ عجیب بد قسمتی ہے امراء کے طبقہ کی کہ الا ماشاء اللہ امیر اپنی غیر معمولی توفیق کے باوجود شرح کے مطابق چندہ دینے سے ہچکچاتا ہے۔ایک آدمی جس کی ایک سو ساٹھ روپے آمد ہے اس کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ وہ دس روپے دے دے لیکن جس کی سولہ لاکھ روپے آمد ہو وہ ہر سال ایک لاکھ روپیہ دے اس کو اتنی بڑی رقم نظر آتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ تھوڑا بھی دے دوں تو دس ہزار ہیں ہزار بہت بڑی رقم ہے۔اس لئے وہ تھوڑا دے کر بھی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں نے دین کے لئے بڑی قربانی کی ہے۔اس لئے وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے اموال میں کشائش عطا فرمائی ہے، اموال میں وسعت بخشی ہے ان کو خصوصیت کے ساتھ اپنے تقویٰ کی حفاظت کرنی چاہئے۔یہ محض ڈراوا ہے کہ مال کم ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال جب خدا کو