خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 261
خطبات طاہر جلد۵ 261 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء واپس کیا جا تا ہے تو کم نہیں ہوتا۔خواہ خواہ دل میں گانٹھیں پڑی ہوتی ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ گانٹھ کھولنے کا جو مزہ ہے وہ نہ کھولنے والے کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔جب بھی آپ خدا کی خاطر دل کی کوئی گانٹھ کھولتے ہیں اس وقت آپ کو دراصل وسعت عطا ہوتی ہے۔اس وقت آپ کو فراخی ملتی ہے اور وہ فراخی مال کی فراخی کے مقابل پر بہت ہی زیادہ عظیم الشان اور بہت ہی زیادہ سرور بخشنے والی فراخی ہے۔اس لئے ہمارے امراء خصوصیت کے ساتھ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ایک اور ذریعہ سے بھی مجھے پتہ چلتا ہے کہ ان میں کچھ کمزوری باقی ہے۔غریب آدمی جب کسی مجبوری کے پیش نظر شرح میں کمی کرنا چاہتا ہے تو وہ بے دھڑک معافی کے لئے خط لکھ دیتا ہے۔اس کا معاملہ اتنا واضح ہے۔اس کی ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں اس کی آمد کے مقابل پر کئی دفعہ مقروض ہو جاتا ہے، کئی دفعہ حادثات پیش آجاتے ہیں کہ وہ بے جھجھک ہو کر لکھتا ہے کہ میرے یہ حالات ہیں اس لئے میں 1/16 دینے کی توفیق نہیں پاتا۔لیکن امیروں کی طرف سے ایسا کبھی کوئی خط نہیں آیا کیونکہ اگر وہ لکھیں تو ان کو شرمندگی ہوگی۔اس لئے وہ نظام جماعت کو توڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ایک اور گناہ سرزد کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی غریب آدمی تو جانتا ہے کہ میں لکھوں گا تو میرے لئے بلکہ دعا کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔میری غربت پر رحم آئے گا اور اس لئے اس کی طبیعت میں لکھنے پرطبعی آمادگی پائی جاتی ہے۔لیکن امیر آدمی اپنا راز کھولتا ہے اپنی خساست کا راز کھولتا ہے اس لئے رک جاتا ہے۔کبھی کسی امیر نے نہیں لکھا کہ مجھ میں توفیق نہیں ہے 1/16 دینے کی مجھے معاف کر دیا جائے۔حالانکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اگر کوئی لکھے تو میں معاف کر دوں گا۔لیکن وہ لکھ سکتے ہی نہیں ان کو توفیق ہی نہیں اس بات کی۔وہ سمجھتے ہیں ہمارے دل کا بخل ننگا ہو جائے گا۔اس لئے ایک جرم ایک دوسرے جرم کرنے پر ان کو مجبور کر رہا ہے۔دراصل اصل نگران تقویٰ ہی ہے جو دل کا نگران ہے۔باہر سے نگرانی ممکن ہی نہیں ہے۔یعنی حقیقی نگرانی باہر سے نہیں ہو سکتی۔اس لئے میں اپنی جماعت کے امراء سے کہتا ہوں کہ اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھائیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال پیش کرتے وقت اپنے تقویٰ کے نگران کو سامنے رکھا کریں۔یہ نہ دیکھا کریں کہ باہر سے کوئی آنکھ دیکھ رہی ہے یا نہیں۔دوسرا حصہ ہے وہ لوگ جو اموال خرچ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔یعنی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے