خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 259

خطبات طاہر جلد۵ 259 خطبه جمعه ۴ رامیریل ۱۹۸۶ء عہدیداران سلسلہ اور افریقہ کے ڈاکٹر ز جماعتی اموال خرچ کرنے میں تقویٰ کے معیار بلند کریں (خطبه جمعه فرموده ۴ را پریل ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اورسورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے مالی قربانی کرنے والوں کے متعلق کچھ امور بیان کئے تھے اور اس بات پر زور دیا تھا کہ مالی قربانی کرتے وقت تقویٰ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اس سلسلہ میں اب صرف اتنا کہہ کر مضمون کے اس حصہ کو ختم کروں گا کہ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چندہ عام وغیرہ میں شرح سے کم دینے والے وہ لوگ ہیں جو بوجہ غربت ایسا نہیں کر سکتے۔میرا لمبا تجر بہ اس کے بالکل برعکس ہے۔مختلف حیثیتوں سے میں نے سلسلہ میں مختلف خدمتیں سرانجام دی ہیں بحیثیت مجلس خدام الاحمدیہ کے رکن ہونے کی حیثیت سے بھی اور وقف جدید کے تعلق میں بھی اور نظام جماعت کے دیگر شعبوں سے تعلق کے لحاظ سے بھی اور ہر جگہ میں نے بالعموم یہ دیکھا ہے کہ غرباء اپنی مالی قربانی میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت آگے ہیں اور شرح کے مطابق چندہ دینے میں جو وہاں تناسب ملتا ہے وہ امراء کے ہاں نہیں ملتا۔اور عجیب بات ہے کہ جتنا آپ او پر چلتے ہیں اتناہی صورت برعکس ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی فضل سے نوازا ہے اور بہت دولت عطا کی ہے ان کے لئے چندہ دینا تو مشکل نہیں لیکن شرح سے چندہ دینا بہت ہی بڑی مصیبت بن جاتا ہے۔در اصل انسان نسبتوں کی بجائے رقم کی مقدار د یکھنے کا عادی ہوتا ہے اور یہ