خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد۵ 251 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء اعلیٰ معیار کے اوپر پر کھے جانے کا تو کیا سوال دنیا میں اس بددیانتی نے اولا دکو ضائع کر دیا، رشتہ داروں کے ایمان کو ہلاک کر دیا۔تو یہ تو دوہرے نقصان کا موجب بنی ہے۔اس لئے تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ کا معنی یہ ہے ہر نقصان سے بچ کر چلو ایک یہ بھی معنی ہے۔ہر دینی نقصان سے بچ کر چلو۔اگر تم تقویٰ اختیار کرتے ہو تو پھر ہر جگہ فائدہ ہی فائدہ ہے ہر سودا ہی فائدے کا ہوگا اور اگر وہاں ٹھوکر کھا گئے تو پھر جتنا مرضی دنیا میں خرچ کرو یا مرنے کے بعد جتنا چاہیں تمہاری اولادیں پیش کرتی چلی جائیں اس کا کوئی بھی فائدہ تمہیں حاصل نہیں ہوسکتا۔وصیت کو میں نے چونکہ ہدایت کی ہے کہ اب اس طرف بھی نگاہ کریں۔وہ نظام جو امراء سے اور سلوک کرے غرباء سے اور سلوک کرے وہ روحانی اور الہی نظام نہیں کہلا سکتا۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فتوی ہی چلے گا۔آپ کے دل کے جھوٹے خیال اور جھوٹے و ہم نہیں چلیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے قو میں اس لئے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کے بڑے لوگ جرم کرتے تھے تو ان سے اعراض کر لیا کرتے تھے۔ان سے در گزر کا سلوک کرتے تھے اور جب غریب لوگ گناہ کرتے تھے تو بڑی سختی سے ان کو پکڑتے تھے۔(مسلم کتاب الحدودحدیث نمبر : ۳۱۹۶) اس لئے نظام جماعت کی تو اس معاملہ میں صرف ایک آنکھ ہے اور وہ تقویٰ کی آنکھ ہے۔تقویٰ کی آنکھ یہ فرق کر ہی نہیں سکتی اگر اس میں کوئی نقص نہ پیدا ہو گیا ہو۔اس لئے نظام جماعت تو اب ہر ایک کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو خدا کا کلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ایک ہی طرح کا سلوک کیا جائے۔اگر کسی کو ٹھوکر لگتی ہے تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔وہ پہلا نفس کا کیٹر اذمہ دار ہے جس نے اس کی قربانیوں کو تباہ کیا اور اس نے اس وقت اس کی فکر نہیں کی۔اگر کسی کی اولاد کو ٹھو کرلگتی ہے تو میں ہرگز ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ ذمہ دار خدا کا کلام ہے جس کے تابع میں ایک ادنی غلام سے بھی کم حیثیت رکھتا ہوں اور نظام جماعت کی بھی اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں ، یہ بے اختیار لوگ ہیں۔اس لئے خدا کا کلام جاری ہوگا اور لازماً جاری ہوگا۔وہ لوگ جو اپنے نفس کی بڑائی یا اپنی عظمتوں کی بڑائی لئے پھرتے ہیں ، دنیا کی عظمتوں کی بڑائی لئے پھرتے ہیں وہ دھوکہ میں نہ رہیں۔یہ اس لئے کیا جارہا ہے تا کہ آپ بچیں۔آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں کیا جا رہا۔اس لئے کیا جا رہا ہے دنیا