خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 250
خطبات طاہر جلد۵ کی صورت نہیں ہے۔250 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء اور بھی کئی قسم کے نقائص ہیں۔تاجر یہ حرکت کرتے ہیں کہ اپنے سارے اخراجات تجارتی کمپنیوں پر ڈال دیتے ہیں اس سے ٹیکس بھی بچتا ہے اور وصیت بھی بچ جاتی ہے۔اور اپنے نام ایک سرسری سی رقم رکھ لیتے ہیں کہ ہم مہینہ میں پانچ سوروپے گھر لے کر گئے تھے اور وصیت پانچ سوروپے پر لکھ پتی ہیں ، ہزار ہا روپیہ ان کا ہفتہ کا خرچ ہو رہا ہوتا ہے ، اولا دیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہیں، ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں مگر سب کے سب یا اکثر حصہ وہ کسی نہ کسی کمپنی کے نام کے اوپر کسی حساب میں وصول کیا جا رہا ہوتا ہے۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ چاہے ڈائر یکٹر کے نام لکھ دو یا بچوں کے نام پر جو چاہو کرو، کمانے والے کی اپنی کمائی ہے۔اللہ کو علم ہے کہ کس کی کمائی ہے اور وہ اگر دنیا کے قوانین سے استفادہ کی خاطر یہ حرکتیں کرتا ہے تو بعض دفعہ دنیا کا قانون اجازت بھی دیتا ہے لیکن خدا کے قانون کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، وہ دنیا کے قانون کے تابع نہیں ہے ، وہ الگ معاملہ کرے گا۔اس لئے ایسے لوگ بھی بعض دفعہ جب نظر پڑتی ہے ان خامیوں کی طرف تو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ اچھا جی اب ہم اپنا سابقہ دینے کے لئے تیار ہیں یا بعضوں نے تھوڑی جائیداد لکھوائی اور بعد میں جب جائیداد خفی معلوم ہوئی تو اولاد نے کہہ دیا کہ اچھا ہم اس جائیداد پہ بھی دے دیتے ہیں۔اب نظام وصیت والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصیت کے نظام پر ظلم کریں گے اگر ایسا کروڑ روپیہ بھی وصول کر لیں اور وصیت کو بحال کریں کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے عمداً اخفا کیا تھا تو تقویٰ کے اس معیار سے گر گیا جس پر وصیت قبول کی جاتی ہے۔پھر یہ بحث ہی نہیں رہے گی کہ کتنا روپیہ اس کی اولا د دینے کے لئے تیار ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں مالی معاملات میں خدا تعالیٰ سے بد دیانتی کر رہا تھا، چھپا رہا تھا ، جو خدا نے اس کو دیا تھا اس سے کم ظاہر کر رہا تھا واپسی کے وقت تو پھر یہ بحث ہی نہیں ہے کہ اس نے روپیہ دیا ہے یا نہیں دیا پھر تو اس کی وصیت منسوخ ہونی چاہئے۔اس لئے جب ایسے لوگوں کی وصیت منسوخ کی جاتی ہے تو پھر شور اٹھتا ہے۔بڑا ظلم ہو رہا ہے جماعت میں اس نے ساری عمر اتنا دیا ، لاکھوں دیا اب فلاں ایک جائیداد تھی اس کی وجہ سے ایک جھگڑا کھڑا کر دیا گیا، خواہ مخواہ شور ڈالا گیا۔تو یہ بد دیانتی ایک تو اس دنیا میں ہی ان کے لئے نقصان کا موجب بن گئی بہر حال۔آئندہ