خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 252

خطبات طاہر جلد۵ 252 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء میں آپ کو پتا چل جائے کہ آپ کیا کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ مرنے کے بعد یہ آواز میں بلند ہوں کہ آج تو سودوں کا دن نہیں رہا۔آج تو کوئی شفاعت کام نہیں آئے گی۔آج تو کسی قسم کی دوستی تمہیں فائدہ نہیں پہنچائے گی۔اس لئے یہ کوئی نعوذ باللہ من ذالک دشمنی کی باتیں نہیں ہور ہیں یا سختی کی باتیں نہیں ہور ہیں۔اس سے بہتر آپ کے حق میں یعنی احباب جماعت کے حق میں اور کوئی اچھا طریق نظام جماعت اختیار نہیں کرسکتا، اسی میں فائدہ ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ نظام کی نظر بعض خامیوں پر پڑے اور پھر وہ اس کو پکڑے۔اپنے دل کا محاسبہ کریں، اپنے حالات کا محاسبہ کریں اور اپنی قربانی کو تقوی کے کم سے کم معیار کے اوپر تو لے کر آئیں۔آگے بہت بلند معیار ہیں۔آگے بہت ترقی کی منازل ہیں۔تقویٰ کے اندر باریک در باریک راہیں ہیں ان کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں معمولی بھی خدا کے نزدیک اتنا بڑھتا ہے کہ حیرت میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے۔لیکن ادنیٰ معیار پر پورا اتر نا تو بہر حال ضروری ہے۔اس مضمون کے اور بہت سے پہلو ہیں مال اور تقویٰ کے تعلق میں جو بیان ہونے والے ہیں باقی انشاء اللہ میں بعد میں بیان کروں گا۔اس وقت ایک ضروری معاملہ کے متعلق جماعت کی سامنے بعض باتیں رکھنی چاہتا ہوں۔قادیان سے جب ہجرت ہوئی تو اس وقت ہندوستان کی جماعتوں کی حالت بہت کمزور تھی الا ما شاء اللہ اور قادیان میں بھی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ تحریک کی کہ ساری دنیا کی جماعتوں پر مرکز اول قادیان کی ذمہ داری ہے اس لئے وہ اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مالی قربانیاں کریں اور صرف ہندوستان والوں پر یہ ذمہ داری عاید نہیں ہوتی۔مختلف ادوار میں اس بیرونی امداد کی مختلف شکلیں بنتی رہیں۔یہاں تک کہ بالآخر الا ماشاء اللہ سوائے صدقہ و خیرات کے اور کوئی رقم باہر سے قادیان نہ بھجوائی گئی۔یا قربانی کی کھالیں یا صدقہ کی رقوم۔اس کے کئی قسم کے نقصانات پہنچے ہیں ان کی تفصیل میں اس وقت جانے کی ضرورت نہیں۔جو قادیان کے درویشوں کے نفس کا وقار تھا، ان کی قربانی کی عظمت تھی وہ بھی مجروح ہوئی ان باتوں سے اور ہندوستان کی جماعتوں کی مالی قربانی کے معیار پر بھی برا اثر پڑا۔مگر پہلے ایک وقت ایسا تھا جب کہ ہندوستان میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو ان صدقہ و خیرات کے علاوہ بھی جماعت کی بڑی بڑی