خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد۵ 249 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء مقرر کئے ہیں، جو معیار مقرر کئے ہیں ان کے پیش نظر فیصلہ ہوگا۔یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کسی کا حال دنیا میں کھول دے اور کسی کا نہ کھولے۔کسی کا کھول کر اسے معاف کر دے اور کسی کا نہ کھولنے کے باوجود معاف نہ کرے۔یہ ایسے معاملات ہیں جن کے اوپر نہ میں فتوی دے سکتا ہوں نہ کبھی کوئی انسان فتویٰ دے سکے گا۔ان کا اللہ سے تعلق ہے اور اللہ ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔لیکن بہر حال ایک اور پہلو بھی ہے کہ عموماً اب تک جو وصیتیں معلق ہوئیں ان کا تعلق زیادہ تر غرباء سے تھا اور امراء کی وصیت کے پہلو پر زیادہ نظر نہیں کی گئی۔دوسرا وصیت کے مالی پہلو پر تو نظر کی گئی لیکن تقویٰ کے جو معیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مالی پہلو کے تقویٰ کے علاوہ بھی بیان فرمائے ہیں ان کو زیادہ تر نہیں دیکھا گیا۔اگر چھان بین ہوئی بھی تو یہ کہ جائیداد کتنی تھی ؟ واقعہ کوئی مخفی رکھی گئی یا نہیں رکھی گئی؟ اور یہ نہیں دیکھا گیا کہ جہاں تک عام انسانی نظر کا تعلق ہے دل کا تقویٰ تو خدا جانتا ہے۔جہاں تک انسانی نظر کا تعلق ہے وہ تقویٰ کی ظاہری شرائط کو پورا کرنے والا تھا یا نہیں تھا۔اس پہلو پر زور نہیں دیا گیا۔چنانچہ میں نے دفتر وصیت کو اور انجمن کو یہ ہدایت کی ہے کہ ان دونوں استقام کو یعنی جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کو دور کیا جائے۔جو امراء ہیں ان کے وصیت کے نقائص اپنے رنگ کے اور ہیں۔مثلاً بعض معاملات علم میں ایسے آتے ہیں کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت صاحب جائیداد ہے لیکن وہ اپنی جائیداد کواپنی زندگی میں اپنے بچوں کے نام پر خرید رہا ہوتا ہے جو موصی نہیں ہے یعنی یہ نہیں کرتا کہ میں اپنے نام لے کر پھر منتقل کراؤں کیونکہ اس طرح وہ پکڑا جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے قانون کی زد میں آجاؤں گا اور کہا جائے گا تم نے وارث کے نام جائیداد منتقل کی ہے اس لئے اس میں حصہ وصیت دو۔اس لئے شروع سے ہی خریدتے ہی دوسرے کے نام پر ہیں۔لکھو کھا روپیہ کی جائیداد زندگی میں بن رہی ہوتی ہے لیکن بحیثیت موصی کے وہ یا تہی دامن رہتا ہے یا اور بہت معمولی سا جو اس نے پہلے لکھوایا تھا بس وہی کچھ اس کا خزانہ باقی رہتا ہے۔عجیب بات ہے یہ وہم، یہ گمان کیسے اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ وہ پکڑا نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے معاملہ کرنا ہے قیامت کے دن اور اسی اصول کے تابع کرنا ہے جو میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی زبان میں پیش کیا ہے۔جس وقت اس نے یہ حرکت کی اور کبھی دکھائی تو وہ پکڑا گیا اور اگر نظام جماعت کے سامنے کوئی ایسا واقعہ آئے تو پھر بھی اس کے لئے کوئی بچنے