خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 248
خطبات طاہر جلد ۵ 248 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء کا کوئی حق نہیں۔لیکن اگر روح تقوی نظر نہیں آتی یا زندگی میں تو کچھ نہیں ہوسکا مرنے کے بعد اولاد اس کا تقویٰ پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہو تو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے میں موصیان کو نصیحت کرتا ہوں کہ ابھی وقت ہے زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنے معاملات درست کر لینے کا۔اگر اس دور میں آپ نے اپنے معاملات درست نہ کئے یا بعض باتیں مخفی رکھیں اور کسی پہلو سے بھی تقویٰ کے معیار پر پورا نہ اترے تو یہ وہم و گمان دل سے نکال دیں کہ قیامت کے دن آپ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے بدلے اس دنیا کی مالی قربانیاں پیش کریں گے۔یہاں کھاتے میں جو کچھ مرضی لکھا ہوا ہو یہ دفتر وصیت کا کھاتہ وہاں منتقل نہیں ہوگا۔وہاں تو كِرَامًا كَاتِبِينَ (الانفطار :ا) کے کھاتے اور ہیں۔وہ جو خدا کے فرشتے کھاتے تیار کرتے ہیں ان کے لکھنے کا طر ز بھی اور ہے ان کی Accountancy کا نظام بھی بالکل مختلف ہے۔انہوں نے کوئی Charted Accountancy تو نہیں کی یہاں بیٹھ کر کہ وہ ظاہری طور پر اعداد و شمار کے پیچھے جائیں۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ گر سیکھے ہیں کہ کس کی قربانی کو جس کے پیچھے خاص روح تھی کتنا بڑھا کر لکھنا ہے اور کس کی قربانی کو کتنا کم دکھا کے لکھنا ہے یا بالکل صفحہ ہستی سے ملیا میٹ کر دینا ہے۔تو خدا کی Accountancy کے حساب اور ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر اپنے معاملات درست کریں۔دنیا کی Accountancy کے دھوکہ میں مبتلا نہ رہیں۔بہر حال ایک دور تو وہ تھا جب اس قسم کی وصیتیں معلق کی گئیں اور ابھی تک معاملے لٹک رہے تھے۔یہاں تک کہ وفات کے بعد بڑی افسوس ناک صورتیں سامنے آنے لگیں عزیزوں اور خاندانوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنیں یہ باتیں بعض لوگوں نے کہا کہ ہم اتنا چندہ دینے والے، ہماری والدہ اتنی بزرگ، ہمارے والد اتنے بزرگ، اتنے پرانے احمدی، اس قسم کے لوگ ، آپ ہوتے کون ہیں وصیت رد کرنے والے۔ٹھیک ہے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کسی کی وصیت رد کرنے کی مگر انسان کی یہ حیثیت بھی نہیں ہے کہ جس وصیت کو خدا تعالیٰ کا قرآن رد کر رہا ہو اور اصول بیان کر چکا ہو کہ اس کو رد کرنا ہے اسے ادنی انسان قبول کر لے، میں تو اس پہلو سے ان باتوں کو دیکھتا ہوں۔اس لئے اس میں کوئی تکبر نہیں ہے کہ کسی کی وصیت رد کی جارہی ہے، اس پر کوئی فضیلت کا اظہار نہیں ہے، اس کی کوئی تحقیر نہیں ہے۔مجبوریاں اور بے اختیار یاں ہیں۔قرآن کریم نے جو حساب