خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد۵ 227 خطبہ جمعہ ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء ایک رحجان یہ دیکھا گیا ہے کہ بکثرت احمدیوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ ہمیں عددی اکثریت کب نصیب ہوگی اور عددی غلبہ کب میسر آئے گا۔یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ الہی جماعتوں سے عددی غلبے کے بھی وعدے فرماتا ہے اور عددی کثرت بھی نصیب فرماتا ہے لیکن جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو خدا کے نزدیک عدد کی کوئی بھی قیمت دکھائی نہیں دیتی۔عدد کی بجائے خدا کے نزدیک کیفیت کی قیمت ہے اور کیفیت کی قیمت کا یہ حال ہے کہ بعض دفعہ چند کی خاطر اور بعض دفعہ ایک وجود کی خاطر کل عالم کو بھی ہلاک کر دے تو خدا تعالیٰ کے ہاں جو قیمتیں مقرر ہیں اس لحاظ سے کوئی بھی نقصان کا سودا نہیں ہوگا۔خدا کی اقدار کے پیمانوں کے لحاظ سے یہ فیصلہ بالکل درست اور مناسب ہوگا۔پس وہ تین آیات جو تقویٰ کے مضمون سے متعلق میں نے الگ الگ سورتوں سے اخذ - کر کے آج آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔ان میں یہی مضمون بیان ہوا ہے اور ان حالات کے نتیجے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ، ہماری سوچوں کو کون سا رخ اختیار کرنا چاہئے ، ہمارے اعمال کو کن صورتوں میں ڈھلنا چاہئے۔یہ ساری باتیں قرآن کریم کی ان تین آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں۔پہلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ كه اسے محمد ملا تو اعلان کر دے کہ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ کہ خبیث یعنی گندا اور ناپاک ہرگز طیب یعنی پاکیزہ کے برابر نہیں ہو سکتا اس کا ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا۔کسی پہلو سے بھی اس کی برابری کا دعوی نہیں کر سکتا۔وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ خواہ اسے مخاطب تجھے خبیث کی تعداد کی کثرت اچھی بھی لگے۔تجھے بات پسند آئے کہ خبیث کی تعداد تو زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بات بھی اس کی اچھی نہیں اور تعداد کے لحاظ سے بھی خبیث کو جواکثریت حاصل ہے اس میں بھی حسن کا پہلو کوئی نہیں ، پھر بھی وہ چند طیب مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔فَاتَّقُوا اللهَ يَأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔پس اپنی قدر و قیمت بڑھانے کی طرف توجہ کرو اور اللہ کے تقویٰ کے معیار کو بڑھاؤ کیونکہ یہی ہے جو خدا کی نظر میں کوئی قیمت رکھتا ہے۔یہ تقویٰ ہی ہے جو خدا کی نظر میں پیارا ہے۔تقویٰ ہی ہے جس کے مقابل پر ہر دوسری چیز خدا کی نگاہوں میں بیچ ہے لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم پھر فلاح پاؤ اور نجات دہندوں میں شمار کئے جاؤ۔