خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 228

خطبات طاہر جلد۵ 228 خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء پس وہ لوگ، وہ احمدی احباب خصوصاً جن کے دل میں بار بار یہ حسرت پیدا ہورہی ہے کہ کاش ہمیں عددی اکثریت جلد حاصل ہو جائے۔ان کو میرا یہ پیغام ہے کہ عددی اکثریت کی بجائے اپنے معیار تقویٰ کو بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔جہاں تک عددی اکثریت کا تعلق ہے یہ بھی قرآن کریم میں وعدے موجود ہیں لیکن عددی اکثریت کی حیثیت سے نہیں بلکہ صاحب تقویٰ لوگوں کی تعداد میں اضافے کی حیثیت سے۔قرآن کریم میں جہاں غیروں پر غلبہ کا وعدہ فرمایا گیا ہے وہاں صلى الله فرمایا ہے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله تا کہ وہ اسے غالب کرے یعنی محمد مصطفی ﷺ کو غالب کرے اور محمد مصطفی ﷺ کے غلبہ کا مطلب عددی اکثریت ہے ہی نہیں۔جب کہا جاتا ہے کہ محمد کو دنیا پر غالب کرے تو مراد یہ ہے کہ ہر حسن کو دنیا پر غالب کر دے، ہر خوبی کو دنیا پر غالب کردے، ہر پاکیزگی کو دنیا پر غالب کر دے، ہر صفت باری تعالیٰ کو دنیا پر غالب کر دے۔پس بظاہر لوگ اس کا یہی معنی لیتے ہیں کہ اسلام کی عددی اکثریت کا وعدہ کیا گیا ہے، ہر گز نہیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلبہ کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ غلبہ حسن کے بغیر ممکن نہیں۔پس اگر اس طرح احمدیت نے بڑھنا ہے کہ نور مصطفوی پھیل جائے تو یہ تمنا ایک پاکیزہ تمنا ہے، یہ تمنا یقیناً قرآن کریم کی کے مطابق ہے لیکن اگر مقابل کے جوش میں ، اگر ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی تمنا میں آپ محض عددی اکثریت پر نظریں لگا کر بیٹھ جائیں تو یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہو گا۔اس ابتلاء کی صحیح قیمت آپ نے وصول نہیں کی۔اس لئے اپنی توجہ کو قیمتوں اور قدروں کی طرف مرکوز رکھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ ہر قربانی کے بدلے خدا سے سب سے زیادہ قیمت وصول کریں گے۔دوسری بات جو بیان فرمائی گئی ہے اِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ تَفْرَحُوا بِهَا اگر تمہیں کوئی اچھی بات پہنچتی ہے تو تمہارے دشمن اس سے بہت برا مناتے ہیں، بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں اِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ہاں اگر تمہیں کوئی تکلیف کی بات پہنچ جائے يُفْرَحُوا بِهَا اس سے بہت خوش ہوتے ہیں۔وَاِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّ كُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا اگر تم بچنا چاہتے ہوان کے شر سے تو طریق یہ ہے کہ تصبر وا صبر کر ووَتَتَّقُوا اور تقویٰ اختیار کرو۔یہ دو ہتھیار ہیں مومن کے جن کے ذریعے غیر کے شر سے بچ سکتا ہے اور اس کے بعد خدا یہ وعدہ کرتا ہے