خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۵ 226 خطبہ جمعہ ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء اطلاق زیادہ مناسب نظر آئے لیکن جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو مومنوں پر جتنے بڑے ابتلاء آتے ہیں اتنے ہی وہ زیادہ عظیم الشان ہوتے ہیں۔گو درد کے بھی بے شمار پہلو ساتھ لئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان دکھوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ماں پیدائش کی تکلیف میں سے گزرتی ہے اور پیدائش کی تکلیف تو تھوڑے عرصے کی تکلیف ہوتی ہے اور ماضی میں پیچھے رہ جاتی ہے لیکن اگر خدا اسے سعید بخت اور خوش نصیب بیٹا عطا فرمائے تو ہمیشہ ہمیش کے لئے اس کی سعادتیں مستقبل میں آگے آگے چلتی ہیں۔وہ اس بیٹے کی زندگی کے ساتھ بھی ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ ان سعادتوں کو بسا اوقات خدا نافلہ کے ذریعے لمبا کر دیتا ہے اور پھر نافلہ کی سعادتوں کو اور آگے بڑھا تا چلا جاتا ہے۔پس مومن کی زندگی کا ابتلا بھی کچھ ایسی ہی صورت رکھتا ہے کہ اگر چہ دکھوں کے ایک دور میں سے مومن کولاز ما گزرنا ہوتا ہے لیکن یہ دور اس کے لئے بہت ہی عظیم الشان دور ہوتا ہے کیونکہ نہ ختم ہونے والی عظیم الشان سعادتیں اور برکتیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔اس دور میں جہاں تک درد کی مختلف لہروں کا تعلق ہے گزشتہ دنوں ہمارے بہت ہی پیارے بھائیوں کے خلاف دردناک سزاؤں کا اعلان کیا گیا۔جو درد کی سب لہروں سے بڑھ کر اس درد کی لہر نے جماعت کے دلوں کو مغلوب کیا ہے اور اس کثرت کے ساتھ سب دنیا سے درد کا اظہار ہو رہا ہے کہ شاید اس سارے دور میں کبھی چند بھائیوں کے دکھ کی خاطر اتنی عظیم تعداد میں انسانوں کے دل نہیں دکھے ہوں گے اور جب میں شاید کہتا ہوں تو میں یہ کہتا ہوں کہ غالباً ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا ہوگا کہ کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کے دل چند آدمیوں کی تکلیف میں اس قدر بے قرار اور بے چین ہو گئے ہوں۔غالباً بھی نہیں میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے سوا آج اس دور میں اس کی کوئی اور مثال نظر نہیں آسکتی۔در دبھی ایک قوت ہوتا ہے اور اس قوت کو آپ جس طرح چاہیں استعمال کریں، جس قسم کے خیالات چاہیں اس قوت سے اخذ کریں، جس قسم کے اعمال پیدا کرنا چاہیں اس قوت کے نتیجہ میں پیدا بھی کر سکتے ہیں۔پس مختلف قلوب اور ذہنوں کے پیمانوں میں آج جب کہ یہ درد ڈھل رہا ہے تو خیالات بھی مختلف پیدا ہور ہے ہیں اور جذبات بھی مختلف پیدا ہور ہے ہیں اور ان کے نتیجے میں اعمال بھی مختلف ظہور میں آ رہے ہیں۔