خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد۵ 186 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء کہ جب تو نے مجھے سہارا بنالیا اور میری خاطر ایک تلخ گھونٹ بھرنے کی کوشش کی ہے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دوں۔جب تم مجھ پر توکل کرو گے تو صرف یہ نہیں کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا نہیں حسبہ اللہ ایسے تو کل کرنے والے کے لئے کافی بھی ہے۔انسان تو بعض دفعہ تو کل کرنے والے کا ہاتھ نہ بھی جھٹکے تب بھی بے اختیار ہو جاتا ہے اس کے اپنے پاس ہی کچھ نہیں ہوتا اس کوسنبھالنے کے لئے لیکن اللہ تو بے اختیار نہیں ہے إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِ؟ کتنی مزید قوت پیدا فرما دی خدا تعالیٰ نے اس معاملے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس امر کے بارے میں خدا فیصلہ کرتا ہے کہ میں یہ کروں گا۔وہ کر کے چھوڑتا ہے اس معاملے کو انتہاء تک پہنچا کے چھوڑتا ہے۔جس بات کو کہے کہ کروں گا میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے ( در این صفحه: ۱۵۸) یہ وہ مضمون ہے جو بیان ہو رہا ہے۔قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرً ا فر ماتا ہے ہر چیز کی ہم نے ایک تقدیر بنائی ہوئی ہے ایک اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اگر دیر بھی ہو تو تم بدظنی نہ کرنا ہم پر بالآخر ہم اس بات کو پورا کر کے دکھائیں گے تمہارے حق میں۔اگر کچھ دیر رزق کا ابتلاء ذرا لمبا بھی ہو جائے یا کچھ دیر کے لئے تم سمجھو کہ ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا تو ایسا سودا نہیں کرنا خدا سے۔خدا سے سودا تو ایسا کرنا ہے کہ اس کی خاطر دے دیا اور پھر تو کل کر لیا کہ بس جس کو دیا ہے وہی ہمارا سہارا ہے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے دن انتظار کرنا شروع کر دو کہ چھت پھٹے اور اب پیسہ گرنا شروع ہو جائے۔اگر اس طرح خدا کا معاملہ ہو تو جتنے بے ایمان ہیں وہ سب سے زیادہ چندے ادا کریں۔جتنے دنیا کے حریص ہیں وہ مالی قربانیوں میں سب سے آگے بڑھ جائیں کیونکہ ان کو پتہ ہو گا کہ کل جتنا دیں گے ہم دوسرے دن اس سے زیادہ مل جانا ہے۔تو ایسا قانون کوئی نہیں چلتا کہ بے وقوف انسان کو بھی نظر آجائے بلکہ دنیا دار کی آنکھ کے سامنے ایک پردہ رہتا ہے وہ نہیں دیکھتا ان چیزوں کو لیکن صاحب تقویٰ جان رہا ہوتا ہے کہ میری قربانی کے بعد کچھ آزمائشیں بھی آئیں گی لیکن بالآخر خدا نے وہاں سے دیا جہاں سے میری توقع نہیں تھی۔اور یہ مضمون ایک خاص حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔