خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد۵ 185 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء ہی غم میں ہے یہ شخص اپنی شرمندگی کی سرحد میں پھلانگ کر آیا ہے بیچارہ۔مجبور ہو گیا ہے اپنے دل کا حال ظاہر کرنے پر نہیں چاہتا تھا مگر بے اختیار ہے اور اپنے آپ کو پابند سمجھتا ہے کہ جب تک میں اجازت نہ لوں میں نہیں شرح سے کم دے سکتا۔اس کیلئے دل سے بے اختیار دعا اٹھتی ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس طرح قبول فرماتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہی اس شخص کا خط آتا ہے کہ ہم نے اجازت تو لی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا احسان فرما دیا ہے اتنی جلدی میرے حالات بدل گئے ہیں کہ اب مجھے اس اجازت کی ضرورت ہی کوئی نہیں رہی اور میں شرح کے مطابق دینے لگ گیا ہوں۔تو یہ روحانی پہلو بھی ایسا تھا جس کوملحوظ رکھتے ہوئے میں نے یہ کہا تھا کہ اجازت لیں اور لکھ کرا جازت لیں۔اکیلے اکیلے خط نہیں لکھنا تو اپنی جماعت میں معاملہ پیش کردیں امیر صاحب کی خدمت میں تو ان کی طرف سے فہرست آجائے اور وجو ہات لکھی ہوں۔اس کے بعد جولوگ چھپاتے ہیں وہ جرم کر رہے ہیں خدا کا۔میری نظر میں نہیں آتے تو نہ آئیں لیکن اللہ کی نظر سے کیسے بچ سکتے ہیں۔اور پھر یہ سودا بیوقوفی کا ہے، اس قدر بیوقوفی کا سودا ہے کہ اس چیز سے ڈرتے ہیں جس چیز سے نہیں ڈرنا چاہئے اور اس سے نہیں ڈرتے جس سے ڈرنا چاہئے۔یہ تو ایسی بات ہے جیسے انسان کسی پناہ گاہ سے بھاگ کر کسی شیر کی کچھار میں چلا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا جو شخص مشکلات میں مبتلا ہے پھنسا ہوا ہے کسی قسم کی مصیبت میں اس کے نکلنے کی راہ یہ ہے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وہ اس طرح اس کو رزق پہنچائے گا کہ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا کہ یہاں سے بھی مجھے رزق مل سکتا تھا۔یعنی رزق کے رستے بھی اتنے مختلف ہیں خدا کی عطاء کے کہ انسانی ذہن وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔یہ تو وہ لوگ جو بچے تو کل کی جرات کرتے ہیں ان کو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب رزق عطا فرمانا شروع کرے تو کوئی روک ٹوک ہی نہیں ہے۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ اس مضمون کو مزید خدا کھولتا چلا جارہا ہے کہ جواللہ وکل کرتا ہے تو وہ اس کے لئے کافی ہوتا ہے۔جب ایک انسان کسی انسان پر سہارا کر لے اور کہے کہ دیکھو جی! اب میں نے تم پر سہارا کر لیا ہے تم قبول کرتے ہو یا نہیں اور وہ کہے کہ میں قبول کرتا ہوں۔تو ایک انسان کو بھی دوسرے کے سہارے کی شرم اور حیا ہوتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے