خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 187

خطبات طاہر جلد۵ 187 خطبه جمعه ۲۸ / فروری ۱۹۸۶ء مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ کا مطلب یہ ہے کہ روز مرہ کے جو عام تمہیں ملنے کے طریق ہیں اگر ان سے ہی خدا تمہیں واپس کرے تو تمہارا نفس یہ بھی بدظنی پیدا کر سکتا ہے کہ یہ تو ملا ہی کرتا تھا یہی ، تجارت ہماری تھی اس نے آخر چھپکنا ہی تھا، دنیا میں ترقی ہوتی رہتی ہے ، ترقی ہوگئی تو کیا فرق پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں معاملہ کرتا ہوں تمہارے تقویٰ کو قبول کرتا ہوں ، تمہارے تو کل کی شرم رکھتا ہوں تو میں پھر ایسے طریق کا معاملہ کرتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ ملنے والا میرا عام دستور نہیں تھا جس رستہ سے مجھے عطا کیا گیا ہے یہ عام دستور کارستہ نہیں تھا، اس سے ہٹ کر بات ہوئی ہے، خدا کا خاص معاملہ ہوا ہے۔اور یہ ہے وہ اصل نعمت جو متقی کے لئے بھی نعمت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ہے وہ تقویٰ کا پھل جس کی دنیا کے لحاظ سے کوئی قیمت مقرر ہی نہیں کی جاسکتی۔ایک آدمی کو ہزار روپیہ کہیں سے اتفاقا مل جاتا ہے وہ آتا ہے اور خرچ بھی ہو جاتا ہے۔اس کی لذت آئی اور ختم بھی ہوگئی۔جب اس کو یہ پتہ چلتا ہے کہ میرے خدا نے اپنی رحمت اور خاص فضل سے یہ مجھے اس طرح عطا کیا تھا تو لا متناہی لذت ہوتی ہے اس کی۔ایسی لذت ہے جس پر فتانہیں آتی۔وہ اپنے بچوں کو سناتا ہے وہ واقعہ، اس کے بچے اس کے پوتوں کو وہ واقعہ سناتے ہیں اور نسلاً بعد نسل یہ واقعات چلتے ہیں کہ اس طرح ہمارے باپ دادا میں سے ایک شخص تھا جس نے خدا سے یہ معاملہ کیا تھا تھوڑ اسا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہ معاملہ کیا۔جولذت اس بات کی ہے مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ کی وہ تو لذت ہی بالکل ایک الگ لذت ہے۔تو وہ شخص جو چند پیسے چند کوڑیاں ماررہا ہے خدا کے حق کی وہ ان ساری نعمتوں سے محروم ہو رہا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے وہ سارا بے برکتی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔وہ بیماریاں حاصل کر رہا ہے، وہ مصیبتیں ، حادثات حاصل کر رہا ہے ، وہ ذہنی پریشانیاں حاصل کر رہا ہے ،وہ روزمرہ کی زندگی کی الجھنیں حاصل کر رہا ہے اور وہ روپیہ اس کے کام نہیں آرہا ہے اور جو خدا کی خاطر تقویٰ کے ساتھ قربانی کرتا ہے اس کے معاملات کو سیدھا رکھتا ہے اس کی ساری زندگی کا خدا حسب ہوتا ہے اس کے لئے چند پیسوں کا حسب نہیں رہتا۔اس مضمون کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ نہیں فرمایا کہ اس کو ضرور زیادہ پیسے دیتا ہے فرماتا ہے ، يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ جیسا کہ قرآن کریم کا علم رکھنے والے جانتے