خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد۵ 147 خطبه جمعه ۴ ارفروری ۱۹۸۶ء ایک بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔گھریلو زندگی کو جنت بنانے کے لئے دونوں طرف کے مزاج کو ان کی عادات کو ان کی دینی حالتوں کو توازن کے ساتھ برابر کرنا چاہئے اور جہاں جتنا جتنا یہ توازن برقرار ہوگا اتنا ہی زیادہ عمدگی کے ساتھ عائلی زندگی بسر ہوگی۔اسی طرح بہت سی شکایات جو میرے علم میں آتی ہیں ان میں ایک بنیادی وجہ قرآن کریم کے ارشاد قول سدید کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔قرآن کریم جب فرماتا ہے قول سدید اختیار کرو، خصوصاً بیاہ شادی کے معاملہ میں کیونکہ نکاح کے موقع پر یہ آیت تلاوت کی جاتی ہے تو اس میں ایک خاص حکمت ہے یہ نہیں فرمایا سچ بولو۔سچ بولنا اور قول سدید میں بعض مقامات پر اتفاقات ہیں بعض جگہ یہ دونوں الگ الگ مضمون بیان کرتے ہیں۔عام طور پر ایک آدمی جب اپنی لڑکی کے متعلق بتا تا ہے کہ میری لڑکی میں یہ تعلیم ہے، فلاں فلاں خوبیاں ہیں تو یہ سچائی ہے اگر وہ بچی واقعہ باتیں ہیں۔اس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ سچ اس نے بولا لیکن اگر وہ خدانخواستہ وہ مرگی کی مریضہ ہو یا اس کے اندر کوئی اور اندرونی ایسا نقص پایا جاتا ہو مثلاً وہ بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔تو اس کو چھپانا بظاہر سچائی کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس نے نہیں کہا کہ اس میں وہ نقص نہیں پایا جا تا لیکن قول سدید کے خلاف ہے۔جب کہا جاتا ہے قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب : اے ) تو مراد یہ ہے کہ معاملہ صاف رکھو اور معاملے میں کوئی بھی نہ آنے دو۔جو باتیں کروان میں صاف گوئی پائی جاتی ہو یعنی اگر نقص ہے تو وہ بھی بیان کرو اور بتادو کہ یہ یہ کمزوریاں ہمارے اندر پائی جاتی ہیں۔قول سدید کے نہ ہونے کے نتیجہ میں بھی ہمارے معاشرے میں بہت ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں اور بہت سے گھر اسی وجہ سے ٹوٹتے ہیں۔اور قول سدید کا نہ ہونا اتنا ایک وسیع عمل ہے جو ہر حصہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔یعنی بعض لڑکے والے آکر جھوٹی باتیں بتاتے ہیں وہ تو خیر جھوٹ میں چلا جائے گا لیکن بعض خامیوں پر پردہ ڈالتے ہیں اس لڑکے کی۔بعض بد عادتیں اس لڑکے کو ہوتی ہیں جس کے متعلق وہ لڑکی والوں کو نہیں مطلع کرتے اگر یہ بتایا ہے کہ فلاں جگہ وہ ملازم ہے تو مثلاً یہ نہیں بتایا کہ اتنا مقروض بھی ہے۔اگر یہ بتایا کہ ہماری اتنی جائیداد ہے تو یہ نہیں بتایا کہ اتنی جائیدا در بہن بھی ہوئی ہے اور اتنی جائیداد جھگڑے والی ہے اور اتنے جائیداد کے وارث بھی ہیں۔تو بعض باتوں کا مخفی رکھنا یہ قول سدید کے خلاف ہے۔