خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 148
خطبات طاہر جلد۵ 148 خطبه جمعه ۴ ار فروری ۱۹۸۶ء ایک بچی کے متعلق مثلاً مجھے پتہ ہے کہ اس کی بڑی دردناک حالت ہے اس کے میاں کو مرگی کا شدید دورہ پڑتا ہے اتنا کہ اگر اس لڑکی کے والدین کو پتہ ہوتا تو آنکھیں کھول کر وہ شادی نہ کرتے لیکن اس بات کو مخفی رکھا گیا ، وہ شادی چل رہی ہے لیکن بڑی تکلیف کی حالت میں ہے۔تو ایک دو جگہ نہیں ہزار ہا مثالیں آپکو ہمارے معاشرے کی دکھوں کی ایسی ملیں گی جہاں قول سدید کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔پھر رومان کا جو تصور ہمارے ہاں پایا جاتا ہے اس کو اگر ہم زیادہ اور وسعت دے دیں تو لڑکی بھی اور لڑکا بھی اپنی عائلی زندگی کے متعلق فرضی جنتیں بنا کر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور لڑ کی یہ سمجھ رہی ہوتی ہے کہ جب میری شادی ہو گی تو سوائے لطف کے اور اعلی نعمتوں کے اور عیش و عشرت کے کوئی بھی اور مصیبت مجھ پر نہیں پڑنے والی حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ باقی باتیں تو دور کی ہیں جس خاوند سے وہ عجیب و غریب تو قعات لے کر جاتی ہے اس خاوند کے بہت سے نقص ہیں جو طبعا اور فطرتاً ہر شخص میں ہوتے ہیں مگر الگ الگ ہوتے ہیں۔بعض عادتوں کے نقص ہوتے ہیں، اسکو ان کے ساتھ بھی گزرا کرنا پڑے گا۔بعض نقص ہیں جن کی اصلاح کی جاسکتی ہے اور بعض کی اصلاح کی نہیں جاسکتی ایسے بھی نقص ہوتے ہیں۔اسی طرح لڑکی میں بھی کمزوریاں پائی جاتی ہیں اس کے اندر بھی بعض خصائل کے نقص پائے جاتے ہیں۔بعض ایسے نقص ہیں جو اس کی فطرت ثانیہ بن چکے ہوتے ہیں جو دور ہی نہیں کئے جاسکتے ،ان کے ساتھ بھی انسان کو رہنا پڑتا ہے۔پھر رشتے داروں کی ذمہ داریاں ہیں خاوند کے اپنے رحمی تعلقات ہیں جن کے حقوق ہیں اس کے اوپر ، وہ ادا کرنے ہیں اب جس بیوی نے ایک جنت بنائی ہوئی ہے فرضی کہ میں جاؤں گی تو میرے خاوند کو مثلاً چار ہزار ملتا ہے تو وہ سارا میرے ہاتھ میں آیا کریگا اور میں اس طرح خرچ کروں گی ، جب وہ دیکھتی ہے کہ بیوہ ماں پر بھی اسکو خرچ کرنا پڑتا ہے، اپنے یتیم بھانجے اور بھانجیاں بھی پالنے پڑتے ہیں تو شدید رد عمل اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔حقیقت کی دنیا میں نہیں اتر تے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ فرض کی دنیا ایک اور چیز ہے، تصورات کی دنیا ایک اور چیز ہے۔حقیقت میں انسان کو تلخیوں کے ساتھ بھی گزارہ کرنے کی اہلیت پیدا کرنی چاہئے۔اس لئے وہاں جا کر پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔مرد بھی اسی طرح اپنی بیویوں کی متعلق بعض ایسے تصورات باندھے ہوئے ہوتے ہیں کہ