خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 146
خطبات طاہر جلد۵ 146 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء اور بڑی تیزی کے ساتھ معاشرہ بگڑنے لگتا ہے اور بالآخر وہ خاندانی نظام جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور مغربیت کی طرح کا انفرادی نظام قائم ہو جاتا ہے۔کفو کا نہ ہونا یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے بیاہ شادی میں خرابی کی۔کفو کیا چیز ہے؟ یہ اسلام میں ایک محاورہ ہے فقہ میں بہت کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔کفو سے مراد یہ ہے کہ جس قسم کی کسی کی حالت ہو ویسا ہی تلاش کیا جائے۔اور کفو کا مضمون نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض دفعہ بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔جب کہا جاتا ہے دین کو فضیلت دو تو یہ مراد نہیں ہے کہ ایک شخص بے دین ہو اس کے لئے دین دار لڑکی لے آؤ کیونکہ جو خود بے دین ہے اس کے لئے دین دارلڑ کی لا نا دوسری طرف سے دیکھا جائے تو غلط مضمون بن جاتا ہے۔اگر لڑکی کے رخ پر جا کر دیکھیں گے آپ تو یہ نتیجہ نکلا کہ ایک دین دار لڑکی کے لئے بے دین آدمی لایا گیا اور آنحضرت علیہ کی نصیحت کا بالکل الٹا نتیجہ نکالا اس لئے جہاں دورخ ہوں وہاں کفو کے بغیر مضمون صحیح بنتا ہی نہیں ہے۔کفو کا مطلب ہے کہ جب دو فریق ہیں تو ان کے درمیان عدل پیدا کرو، ان کے درمیان توازن کو قائم کرو۔اگر کوئی دین دار ہے تو جتنا دین داروہ ہے ویسا ہی دین دار ساتھی تلاش کرو۔کچھ فرق تو مناسب بھی رہتا ہے اور وہ مشکل کا موجب نہیں بنتا لیکن جو نمایاں فرق ہیں وہ بڑی مشکل ڈال دیتے ہیں۔چنانچہ بہت سے ایسے گھرانے بال آخر برباد ہوئے اور ٹوٹے جن میں خاوند بے دین تھا اور بیوی بہت دین دار تھی یا بیوی بے دین تھی اور خاوند بہت دین دار تھا۔الا ماشاء اللہ یہ گھرانے قائم نہیں رہا کرتے۔ان کی اولادیں بھی پھر تباہ ہوتی ہیں اگر بیوی بے دین ہے تو وہ اولادکو اپنی طرف گھسیٹتی ہے اور اولاد کے معاملہ میں ہمیشہ ادنی صفات غالب آتی ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نیکی کے تتبع میں اولا د کمزوری دکھا جاتی ہے مگر بدی کو اخذ کرنے میں بہت تیزی دکھاتی ہے۔اس لئے ہمیشہ نتیجہ یہ نکلتا ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ فضل فرمائے اور اس کا بھی طریقہ بیان فرما دیا ہے قرآن کریم نے کہ کیسے وہ فضل نازل ہو سکتا ہے۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ فضل فرمائے اگر ماں اور باپ میں ایک میں ایک بدی پائی جاتی ہے اور دوسرے میں وہ بدی نہیں پائی جاتی تو اولا دعمو ما بدی والے حصہ کو اخذ کرے گی۔اگر ماں بے پردہ ہے اور باپ دین دار ہونے کی وجہ سے پردے کا خواہاں ہے تو اولاد بے پرد ہوگی۔اگر ماں باپردہ ہو اور خاوند آزاد ہو تب بھی اولا دبے پر دہوگی۔اس لئے کفو کو