خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد۵ 132 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء نیکیوں پر تکبر کرتا ہے اس کو بدیوں پر شرمندگی کی توفیق بھی نہیں ملتی۔ان دونوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ایک ایسا جوڑ ہے جس کو آپ الگ نہیں کر سکتے۔یا درکھیں کہ جو شخص اپنی نیکی پر متکبر ہے۔میں پھر اس بات کو دہرا دیتا ہوں کہ اس شخص کو اپنی کمز رویاں بسا اوقات نظر نہیں آتیں۔اور یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں۔اس کے نتیجے میں اس کو ندامت اور استغفار کی توفیق نہیں مل سکتی۔ندامت اور استغفار کی توفیق اسی کو ملتی ہے جو اپنی نیکیوں کے اوپر بھی انکسار دکھاتا ہے اور پھر بدیاں اگر ہوں تو اس کا تو حال ہی کچھ نہیں رہتا بیچارے کا۔وہ تو پانی ہو جاتا ہے اپنے خدا کے حضور۔اس لئے یہ مسئلہ حل ہو گیا آج ہمارے سامنے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں استغفار کرتے تھے۔اگر آپ ایک یا دو نیکیوں پر انکساری کریں تو آپ خدا کے حضور استغفار کے لئے ایک مزاج پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔اپنی کمزوریوں کے معاملے میں۔وہ نبی جو نبی کامل تھا، جس کو ساری نیکیاں حاصل تھیں اور وہ بھی درجہ کمال تک حاصل تھیں۔اس نے اس لئے سب سے زیادہ استغفار کیا کہ وہ نیکیوں کے معاملے میں متکبر نہیں تھا بلکہ منکسر المزاج تھا۔اور اس نے انکسار کے اور استغفار کے پھر اور بہانے ڈھونڈے۔اس نے یہ کہا کہ جو کچھ بھی مجھے حاصل ہے سراسر اول سے آخر تک خدا کا فضل ہے۔اتنا خدا کا فضل ہے کہ میرے پاس اپنا کچھ بھی نہیں رہا، مجھے بھی وہ بخشے گا تو اپنے فضل سے بخشے گا۔دیکھو! ایک انکسار نے پھر کتنے حسین رنگ دوسرے پیدا کر دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی یہی عرض کرتے ہیں اپنے رب کے حضور۔یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ور نہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار در ثمین صفحه: ۱۲۵) پس معاشرے کی اصلاح شروع ہوگی تو آپ سے شروع ہوگی۔گھروں کی اصلاح شروع ہوگی تو مرداول ذمہ دار ہیں۔مردوں کو قوام بنا پڑے گا۔لیکن قوام ان معنوں میں جن معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے بیان فرمایا ہے کہ دوسرے کی اصلاح اپنی اصلاح کے ذریعہ کریں۔اور اپنی اصلاح کے ذریعہ دوسرے میں اس کی تاثیر جاری کریں۔صحبت