خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 133

خطبات طاہر جلد ۵ 133 خطبہ جمعہ۷ فروری ۱۹۸۶ء صالحین جس کو کہتے ہیں۔یہ وہ تعریف ہے قوام کی۔کہ مرد قوام ان معنوں میں ہے کہ وہ خود صالح بنتا ہے اور اس کی صالحیت میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور وہ تا بیر اس کے گھر میں اثر دکھاتی ہے۔اور اس کے نتیجے میں اس کی عورت بھی خوبصورت بنی شروع ہو جاتی ہے اخلاقی لحاظ سے اور پھر اس کی اولاد میں بھی وہ تاثیر جلوہ گر ہو جاتی ہے۔انکسار کا دامن پکڑ لیں کسی معاملے میں تکبر نہ کریں اگر آپ تکبر نہیں کریں گے تو آپ کے منہ سے دکھ کا کلمہ نہیں نکلے گا۔خواہ وہ بحث ہورہی ہو یا کوئی معاملہ آپس میں کوئی انسانی معاملہ ہو۔ہر معاملے میں تکبر اثر انداز ہورہا ہوتا ہے اس لئے انکسار سیکھیں اور انکسار سیکھیں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیونکہ آپ کو درجہ کمال حاصل تھا۔حقیقت یہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انکسار کا اگر صحیح مفہوم انسان سمجھ جائے تو ساری دنیا کی دولتیں اس کو میسر آجاتی ہیں۔بعض لوگ بیچارے انکسار کا مفہوم نہ سمجھنے کے نتیجے میں انکسار میں بھی تکبر کر رہے ہوتے ہیں۔اتنا دھوکہ ہے اس مسئلے میں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایک امیر آدمی اپنی عمارت کا رعب جتانے کے لئے کہتا ہے کہ جی میرا معمولی سا گھر ہے۔پس چھوٹی سی کٹیا ہے آپ تشریف لائیں۔میرے گھر میں اور انکسار نہیں ہورہا ہوتا۔مراد یہ ہوتی ہے کہ دیکھو جی میری چھوٹی سی کٹیا دیکھو گے تم بڑے بڑے لوگوں کے محلوں سے بھی افضل ہے۔اپنے کوکھانے جب وہ برا بھلا کہتا ہے بظاہر تو وہ بھی انکسار کی وجہ سے نہیں بلکہ دکھاوے کا ایک رنگ ہے، ایک برتری کے اظہار کا ایک طریق ہے۔اس لئے عجیب بات ہے کہ ہمارے تو انکسار میں بھی تکبر پایا جاتا ہے۔جب معاشرے بگڑتے ہیں تو یہ حال ہو جاتا ہے بیماریوں کا۔اس لئے حکمت کے ساتھ آنکھیں کھول کر معاملہ کریں۔بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے جماعت احمدیہ کی کہ نہ صرف اخلاق پیدا کریں بلکہ اخلاق کو مکارم تک پہنچائیں اور مکارم سے آگے بڑھا کر مکارم اخلاق کو بھی زینت بخشیں۔اگر ہم ایک با اخلاق جماعت بن جائیں جو بچے معنوں میں با اخلاق ہو جن اخلاق کی بنیاد تقویٰ پر ہوتی ہے ، حکمت پر ہوتی ہے۔تو پھر دیکھیں کہ آپ کے دوسرے کام کتنے آسان ہو جاتے ہیں۔سب سے پہلے تو اس کا اجر آپ کو اپنے گھروں میں ملنا شروع ہو جائے گا۔وہ گھر جو جہنم