خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 131

خطبات طاہر جلد۵ 131 خطبہ جمعہ ۷/فروری ۱۹۸۶ء جو دال ہے وہ میں حاضر کرتا ہوں۔اس کو بجز تو نہیں کہہ سکتے۔وہ تو ہے ہی دال اس بیچارے کو اور کیا کہیں گے سوائے اس کے کہ وہ پاگل ہو بیچارہ بجز کے شوق میں اس کا نام بگاڑ دے جیسے کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک غریب آدمی کسی امیر دوست کے گھر گیا تو اس نے بہت ہی اعلیٰ کھانے پکائے ہر قسم کی خاطر مدارات کی اور جب دستر خوان پر بلایا تو نہایت ہی عمدہ قسم کے کھانوں کو سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاف کردو بھائی جو دال دلیہ حاضر تھا میں نے پیش کر دیا۔یہ تو انکسار ہوا بظاہر۔عملا تو یہ انکسار نہیں ہے بلکہ دکھاوے کے رنگ میں یہ بات ہوتی ہے۔مگر بہر حال اگر وہ اخلاص سے کی جائے تو انکسار ہے۔اس کے بعد اس غریب دوست نے دعوت کی اور واقعہ دال تھی اس نے سوچا کہ اتنے اچھے کھانوں کا نام اس نے دال دلیہ رکھا تھا میں دال کو کیا کہوں؟ اس کو کیا نام دوں؟ تو اس نے دال پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضور میرے پاس تو کچھ بھی نہیں جو گند بلا ہے وہ حاضر ہے۔تو دال کا گند بلا ہی بنایا جاسکتا تھا۔تو اگر تمہارے پاس کوئی نیکی نہیں ہے تو تکبر کیا کرو گے۔گند کا نام اس سے بڑا گندا تو نہیں رکھ سکتے۔انکسار کہتے ہی اس بات کو ہیں کہ خوبی ہے اور اپنی خوبی سے چشم پوشی اسطرح کرنا کہ گویا وہ خوبی نہیں ہے۔بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلیل دکھانا یا خدا کے پاک نبی بن کر یہ اس کے حضور یہ عرض کرنا کہ میں تو کرم خاکی ہوں بشر کی جائے نفرت ہوں ،انسانوں کی عار ہوں ، میرے میں کچھ بھی نہیں ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار (در مشین صفحه: ۱۲۶) اس کو انکسار کہتے ہیں، اس کو بجز کہتے ہیں۔پس اپنی خوبیوں پر بجز کرو اور پھر دیکھو کہ معاشرہ کتنی تیزی کے ساتھ سدھرنے لگتا ہے۔دوسرے کی بدیوں پر تکبر نہ کرو۔اپنی کمزوریوں پر انکسار تو دکھا نا پڑتا ہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک انسانی کمزرویوں کا تعلق ہے جو شخص اپنی نیکیوں پر بھی انکسار دکھاتا ہے اپنی کمزوریوں پر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ خدا کے حضور کٹ مرتا ہے۔سوائے شرمندگی اور خدا کے حضور ندامت کے آنسو بہانے کے اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہتا۔اور جو شخص اپنی