خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 984
خطبات طاہر جلدم 984 خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۸۵ء کا احسان ہے کہ جن کو بیک وقت وہ سارے مقام عطا فرماتا ہے۔پھر ان مقامات کی لذتیں بھی ان کو بخشتا ہے اور وہ چاروں مقامات کا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن ایک انسان اگر صالحیت کے مقام پر بھی پہنچ جاتا ہے تو ایک بہت عظیم الشان مقام ہے۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نماز سے آپ پہچان لیں گے نماز صالح ہوگئی تو آپ صالح ہو گئے نماز شہید ہوگئی تو آپ بھی شہید بن گئے ،نماز صدیق ہوگئی تو آپ بھی صدیق ہو گئے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نمازوں کے متعلق فرمایا کہ تم کہیں غلط نہی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ ابوبکر بھی تو ہماری جتنی نمازیں پڑھتا ہے یا ہمارے جیسے پڑھتا ہے اس کی نمازیں بعض ایسی ہیں جو تمہاری عام نمازوں سے ستر گنا زیادہ مرتبہ رکھتی ہیں۔ستر گنا تو ایک تکمیل کا لفظ ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بعینہ ستر عد د شمار کر کے اتنے گنا بلکہ ستر کا لفظ عربی میں تکمیل کے معنی دیتا ہے۔ایک وسعت کے معنی دیتا ہے، بہت زیادہ کے معنی رکھتا ہے۔دوسرا حصہ جو سورہ فاتحہ کے بعد یا تلاوت کے بعد ہمارے سامنے آتا ہے وہ تلاوت ہے۔اب تلاوت کے لئے بھی انسان کو ایک سے زیادہ آیات مختلف نمازوں کے لئے یاد رکھنی چاہئیں۔عموماً بچپن میں جب ہم نمازیں سکھاتے ہیں تو بچوں کو قُل هُوَ اللهُ اَحَدٌ سکھا کر یہ بتا دیا جاتا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد ان دو رکعتوں میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُ پڑھ لینا اور بعد میں آخری دور کعتیں اگر ہوں تو ان میں بغیر قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ کے بھی نماز ہوگی لیکن یہ سمجھایا نہیں جاتا یعنی اس توجہ اور شدت کے ساتھ سمجھایا نہیں جاتا کہ یہ کم سے کم ہے اور اس سے زیادہ تمہیں یاد کرنا چاہئے کیونکہ نماز کی حالت میں تلاوت ایک اور رنگ رکھتی ہے۔نماز کے بغیر تلاوت ایک اور رنگ رکھتی ہے۔اور قرآن کریم نے جب یہ فرمایا إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ( بنی اسرائیل:۷۹) تو یہاں فجر کی نماز کی تلاوت مراد ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز کی تلاوت کو بہت لمبا کیا کرتے تھے اور صحابہ بھی آپ کے رنگ میں فجر کی نماز میں تلاوت کو بہت لمبا کرنے کے عادی ہوتے تھے۔پس اگر اتنا لمبا نہ بھی سہی تو کیوں فرق کیا گیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرق کیوں کیا۔باقی نمازوں کی تلاوتوں کے مقابل پر صبح کی نماز کی تلاوت کو کیوں لمبا ؟ اس لئے کہ آپ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم