خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 983 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 983

خطبات طاہر جلدم 983 خطبه جمعه ۱۳/ دسمبر ۱۹۸۵ء کمال کو پہنچا ہوتا ہے تبھی قرآن کریم نے انبیاء کے لئے صالح کا لفظ بھی استعمال فرمایا ، صدیق کا لفظ بھی استعمال فرمایا ، شہید کا لفظ بھی استعمال فرمایا۔صدیق کا بھی اور نبی کا بھی اور جوکم فہم لوگ ہیں بعض جو غور نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ بعض نبی صالح ہیں بعض صدیق ہیں بعض شہید ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا ہر نبی لازم صالح بھی ہوتا ہے، لازماً شہید بھی ہوتا ہے، لا ز ما صدیق بھی ہوتا ہے اور لا زمانبی بھی ہوتا ہے۔تو زندگی میں شہادت پانے کا گر نماز سکھاتی ہے اور زندگی میں شہادت پانے کا صرف گر ہی نہیں سکھاتی بلکہ بتادیتی ہے کہ ہاں تمہیں شہادت نصیب ہوگئی۔پس وہ نماز جس میں خدا غا ئب سے حاضر میں آجاتا ہے، وہ نماز جو عالم الغیب والشھادۃ کو عالم غیب سے عالم شہود میں اتار دیتی ہے۔وہی نماز ہے جو شہادت کا مقام رکھتی ہے اور وہی نماز ہے جو نمازی کو شہید بنادیتی ہے۔پھر خواہ اس کی جان خدا کی راہ میں جائے یا نہ جائے اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا مرنا جینا سب کچھ خدا کے لئے ہو جاتا ہے۔پس نماز کے ذریعہ آپ کو شہادت بھی نصیب ہوگی اور جب تک نماز کی شہادت نصیب نہیں ہوتی۔باقی شہادتیں اس کے مقابل پر کوئی بھی معنی نہیں رکھتیں۔اور وہ شہادت جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق احسان کے نتیجہ میں ملتی ہے۔جب آپ تو جہات کو درست کر لیں۔جس کے لئے ایک بڑی لمبی محنت چاہئے اور لمبی محنت کے بعد بھی خطرے سے خالی پھر بھی نہیں رہیں گے۔اعلیٰ مقام پر پہنچیں گے تو اعلیٰ قسم کے وساوس آپ پر حملہ کریں گے لیکن کریں گے ضرور۔جب اس حالت کو درست کریں اور اس حالت کے دوران خدا کے حضور حاضر ہونے کی حالت پیدا کر لیں گے۔گویا خدا کو دیکھ رہے ہیں اور خدا آپ کو دیکھ رہا ہے۔وہ مقام شہادت ہے جواِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - اے خدا! ہم عبادت کی راہ سے تجھ سے وہ راہ تلاش کرنے آئے ہیں۔جو راہ ان چاروں مقامات تک بالآخر انسان کو پہنچا دیتی ہے۔پس صدیقیت بھی اسی مقام کے آخر پر ہے۔اسی عبادت کے آخر پر تو نہیں کہنا چاہئے آخری مقام سے پہلے ایک مقام آتا ہے اور وہ مقام بھی کوئی ایسا مقام نہیں جو ایک دم شروع ہوا اور ایک دم ختم ہوا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تمام زندگی بلکہ زندگیوں کے تسلسل بھی ان مقامات پر حاوی نہیں ہو سکتے۔یہ اللہ تعالیٰ