خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 985 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 985

خطبات طاہر جلدیم 985 خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۸۵ء کیا فرماتا ہے وہاں قُرآنَ الْفَجْرِ سے مراد محض عام تلاوت نہیں بلکہ فجر کی نماز میں قرآن کی تلاوت ہے۔اگر فجر کے مضمون کو لمبا کیا جائے تو فجر سے پہلے تہجد کی نماز کی تلاوت پر بھی اطلاق پاسکتا ہے۔تو تلاوت کے رنگ بدلنے چاہئیں۔تلاوت میں تنوع پیدا کرنا چاہئے اور جب آپ تلاوت کے مضمون میں داخل ہوں گے تو ہر آیت جو آپ چنتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک نیا پیغام لے کر آئے گی ، ایک نیا مضمون آپ پر کھولنا شروع کرے گی۔پس اپنے بچوں کو ایک سے زیادہ سورتیں یاد کرا ئیں خواہ مختصر ہوں اور معانی کے ساتھ یاد کرائیں اور یہ سمجھا کر یاد کرائیں کہ جب تم نماز پڑھو تو ان کے معانی سے گزرو۔یہ مضمون تو بہت لمبا ہے میں ایک حصہ صرف فی الحال بیان کر کے اس کو ختم کروں گا۔اس کے بعد پھر انشاء اللہ بعض دوسرے پہلوؤں پر آئندہ روشنی ڈالوں گا۔سبحان ربی العظیم جب ہم رکوع میں جاتے ہیں تو سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پڑھتے ہیں۔عظیم کا کیا معنی ہے اور سُبحَانَ ساتھ کیوں پڑھا جاتا ہے اور رہی کیوں کہتے ہیں رَبَّنَا کیوں نہیں کہتے ؟ یہ سارے خیال انسان کے دل میں اٹھتے ہیں۔یہ سارے سوال پیدا ہوتے ہیں۔سب سے پہلے تو میں عظیم“ کے معنی بتاتا ہوں۔کہ عظیم کے معنی ہیں کیا ؟ عظیم کا لفظی اردو میں ترجمہ تو بڑا ہے۔” بہت بڑا۔لیکن اللہ اکبر کا مطلب بھی بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔کبیر کا مطلب بھی بڑا ہے۔عظیم میں باقی بڑائی کے مقابل پر کیا فرق پایا جاتا ہے۔عظیم لفظ حجم پر بھی بولا جاتا ہے اور وسعت پر بھی۔اس میں لمبائی اور طوالت کے معنے نہیں پائے جاتے بلکہ وسعت حجم کے لحاظ سے اگر ظاہری طور پر لفظ اطلاق کریں عظیم الجثہ کہتے ہیں ایسے شخص کو جو بہت بڑا پھیلا ہوا جثہ رکھتا ہو۔عظیم پہاڑ ہوتا ہے اور طوالت کے معنی اس لحاظ سے ضرور پیدا ہو جاتے ہیں کہ عظمت کو اونچائی کی طرف دیکھیں تو وہ طوالت بن جاتی ہے۔چوڑائی کی طرف دیکھیں تو وہ چوڑائی ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی حجم کا تصور عظمت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔افق تا افق پھیلی ہوئی چیز عظیم ہوگی۔زمین و آسمان پر یکجائی نظر ڈالیں تو وہاں کبیر کا لفظ نہیں ذہن میں آئے گا بلکہ عظیم کا لفظ آئے گا۔عظیم کا لفظ صرف ظاہری چیزوں پر نہیں بلکہ معنوی چیزوں پر بھی اطلاق پاتا ہے بلکہ زیادہ تر