خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 819

خطبات طاہر جلدم 819 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء جب دس سے زیادہ وقت ہو گیا تو میں نے خود یہ اعلان کیا کہ ہو سکتا ہے بعض شرفاء اخلاق کی وجہ سے محض رک گئے ہوں یہاں سے جانا بد اخلاقی سمجھتے ہوں اور ان کو ضرورت ہو اس لئے اگر چہ سوال ختم نہیں بھی ہوئے تو میں سمجھتا ہوں کہ مجلس کو ختم ہونا چاہئے۔جب یہ بات ہوئی تو اس وقت بھی ہاتھ اٹھنے شروع ہو گئے۔بہر حال میں چونکہ اعلان کر چکا تھا تو مجلس کو ختم کیا گیا لیکن رخصت ہوتے وقت بعض لوگوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے تو ابھی سوال اور کرنے تھے اور وقت چاہئے تھا۔چنانچہ ایک خاتون تھیں انہوں نے کہا کہ میرے تو حیات بعد الموت کے متعلق بڑے ضروری سوالات ہیں مجھے تو ان کے لئے وقت چاہئے۔کچھ اور صحافی اکٹھے ہو گئے اور وہیں دوبارہ پھر ایک مجلس لگ گئی اور کوئی نصف گھنٹہ کے قریب کھڑے ہو کر ان سے باتیں ہوئیں پھر انہوں نے کہا جی ہمارے تو سوال ختم ہی نہیں ہوئے ، اب کیا کیا جائے۔دوسرے دن جو مجلس تھی وہ ہمارے احمدیوں کے لئے رکھی ہوئی تھی عموماً جو ہماری مجلس سوال و جواب ہوتی ہے تو ہم نے پھر اس کو بھی ان غیروں کے لئے مجلس میں بدل دیا اور ان کو کہا کہ آپ کل تشریف لے آئیں تو اس خاتون نے کہا میں تو Appointment کینسل کر کے آؤں گی اور مجھے تو جب تک سوال کے جواب نہ ملے میری تسلی نہیں ہونی۔ایک احمدی سے بعد میں اس نے کہا که ساری زندگی کے میرے خیالات بدل گئے ہیں اس مجلس میں۔اب مجھے اپنی زندگی کا ایک نیا نقشہ بنانا ہوگا۔اس لئے میرے لئے ضروری ہے کہ میں جاؤں اور بقیہ سوالات کروں۔اسی طرح ہمارے دوسری مجلس میں اور بھی بعض معززین جو سوال نہیں کر سکے تھے وہ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔کچھ ہمارے ہمسائے تھے وہ وہاں پہنچے ہوئے تھے اور دوسری مجلس نماز مغرب کے بعد شروع ہوئی اور اتنی دیر ہوگئی کہ ان کو کھانا پیش کرنا تھا اس میں دیر ہو رہی تھی۔پھر ہم نے کھانے کا اعلان کیا اور دوبارہ یہ کہا کہ کھانے کے بعد دوست جو تشریف لے جاسکتے ہیں ہاں اگر کسی نے ضرور ٹھہرنا ہے تو پھر بے شک ٹھہر جائے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اکثر ان میں سے ٹھہر گئے پھر اور رات تقریباً ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ بج گئے اور بعض ہمارے ساتھی سفر کے تھکے ہوئے نظر آ رہے تھے تو ان سے میں نے کہا کہ انہوں نے آگے سفر کرنا ہے یہ بیچارے تھک گئے ہیں۔ترجمہ کرنے والے تھک گئے تھے آخر انہوں نے جواب ہی دے دیا۔دوستوں نے بھی کہا کہ ہمیں انگریزی کی اتنی سمجھ آجاتی ہے تو یہ وقت ضائع ہو گا اس لئے