خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 818 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 818

خطبات طاہر جلدم 818 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء ممالک کے اور دیگر بعض ممالک کے نمائندے بھی خدا کے فضل سے وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔چوٹی کے دانشور وہاں موجود تھے ایسے صحافی بھی تھے جن کا سارے ملک میں وقار ہے اور بڑی عزت سے ان کو دیکھا جاتا ہے۔بڑے عالم پروفیسر صاحبان، میئر ، اسمبلیوں کے ممبر اس قسم کا طبقہ موجود تھا اور خدا کے فضل سے ہر طبقہ کی اچھی نمائندگی تھی۔چائے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد عموماً ایسی Receptions میں تعارف ہوتا ہے اور چند باتوں کے بعد پھر مجلسیں برخاست ہو جایا کرتی ہیں لیکن ملاقات کے دوران ہی بعض دوستوں نے بعض باتیں جماعت کے متعلق معلوم کرنی چاہیں تو میں نے ان سے کہا کہ بجائے اس کے کہ میں ایک ایک کو جواب دوں ہم اکٹھے بیٹھیں گے بعد میں اس کے بعد آپ سب سے بات ہو جائے گی۔چنانچہ میرا یہ خیال تھا کہ چند لوگ بیٹھ جائیں گے اور اکثر کی پہلے سے ہی مصروفیات ہوتی ہیں اور انکو جلدی جانا پڑتا ہے اور وہ لوگ چلے جائیں گے لیکن سوائے ایک دوست کے جنہوں نے پہلے ہی مجھے کہا تھا صبح بھی وہ ملنے آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ شام کو میں جلدی اجازت چاہوں گا کیونکہ میری ایک Appointment ہے ان کے سوا کوئی بھی اٹھ کر نہیں گیا۔جب یہ اعلان کیا گیا کہ جو دوست سوال کرنا چاہیں کسی موضوع پر تو شوق سے سوال کریں تو اتنی دیر ہوگئی، ساڑھے چھ سے بلایا ہوا تھا رات کے دس بج گئے اور اس سے بھی اوپر وقت ہو رہا تھا اور یہ شام کی چائے تھی کھانے کا وقت بھی نہیں تھا ان کا کھانے کا وقت گزر چکا تھا اور ہماری طرف سے کھانا پیش نہیں تھا اس کے باوجود وہ دوست اٹھ نہیں رہے تھے اور اتنی بھر پور مجلس ہوئی ہے، ہر قسم کے موضوعات پر سوالات کئے گئے اور ان معززین نے اتنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے کہ حیرت ہوتی تھی کہ جس طرح ہمارے ملکوں میں ایک رویہ ہوتا ہے اخلاق اور محبت سے سوالات کرنے اور جواب لینے کا عام طور پر مغربی دنیا میں یہ نظر نہیں آتا مگر بالکل وہی رنگ اور وہی کیفیت پیدا ہوگئی تھی بلکہ ہمارے بعض ساتھی تو جواب دیتے وقت میرا منہ دیکھنے کی بجائے ان لوگوں کے منہ دیکھ رہے تھے جو جواب سن رہے تھے اور کبھی ان کے چہرے پر نظر پڑتی تھی تو ان کی بشاشت سے مجھے بھی یہ اندازہ ہو جا تا تھا کہ یہ جواب کس رنگ میں قبول کیا گیا ہے۔چنانچہ بعضوں نے بعد میں کہا کہ سوال کرنے والا تو جواب سنتے وقت اتنا تائید کرتا تھا کہ حیرت ہوتی تھی کہ اس کا سر مسلسل تائید میں ہلتا ہی چلا جاتا تھا۔