خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 820
خطبات طاہر جلدیم 820 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء ترجمہ نہ ہی کروایا جائے۔یہ میں بتارہا ہوں اس لئے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی گہری توجہ ہے اور اسلام میں ایک حقیقی دلچسپی پیدا ہو چکی ہے۔شروع میں اس طرح سوالات کرتے ہیں جس طرح کوئی اسلام پر باقاعدہ حملہ کر رہا ہے اور آخر پر طفل مکتب کی طرح ان کے سوالات کا رنگ ہو جاتا تھا علم کی خاطر مزید تجسس کے لئے کہ کیا ہے؟ کچھ ہمیں بھی حقیقت معلوم ہو۔یہ جو کیفیات ہیں یہ اللہ کی دین ہے اور اب تک میں نے جتنے ملکوں کا دورہ کیا ہے ان سب میں یہ قدر مشترک ہے شروع کی چہرے اور ہوتے ہیں بعد کے چہرے اور ہوتے ہیں ، شروع میں سوالات کا رنگ اور ہوتا ہے بعد میں سوالات کا رنگ اور ہوتا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اسلام کے متعلق ان کو شروع میں غلط فہمیاں بہت ہیں۔جب وہ سوال شروع کرتے ہیں تو ایک اور اسلام کا تصور باندھ کر سوال شروع کرتے ہیں اور چند جوابات میں جب اسلام کی حقیقی شکل ان کو نظر آتی ہے تو اس حقیقی شکل میں اتنا حسن ہے، اتنی جاذبیت ہے، اتنی دلربائی ہے اسلام میں کہ ان کے ذہنوں کا نہیں دلوں کا تعلق ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اور بالکل بدلی ہوئی کیفیت میں پھر لوگ رخصت ہوتے ہیں۔یہ وہ رو ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے چلائی گئی اور اس سے ہمیں بہر حال مزید استفادہ کرنا ہے جس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ہر احمدی مبلغ بنے۔ہر احمدی اپنے ماحول میں ان مخفی بے چینیوں کو ابھارے جو بے چینیاں اس وقت سارے مغرب کو بے قرار کئے ہوئے ہیں اور انہیں سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود گویا کچھ بھی حاصل نہیں ہے۔ان کو ٹول کر دیکھیں تب آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی ظاہری خوشیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ہنستے ہوئے چہرے کے پیچھے دکھ چھپے ہوئے ہیں۔بظاہر سب کچھ ان کو حاصل ہے اس کے باوجود ان کی روحوں میں ایک خلا محسوس ہورہا ہے اور ان کے دل طلب کر رہے ہیں کہ ہمیں وہ چیز نہیں ملی جس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔اس لئے وہاں سے تبلیغ کو شروع کرنا چاہئے۔محض اسلام کا پیغام دینے کی خاطر آپ کسی کو روکیں گے کہ مجھ سے اسلام کا پیغام لیتے جاؤ کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔پہلے آپ ان سے تعلق بڑھائیں ، ان کے دلوں کو کریدیں ، ہر راکھ کے ڈھیر میں آپ کو چنگاریاں نظر آئیں گی ، ہر سینے میں بے چینی دکھائی دے گی وہاں سے آپ کا کام شروع ہوتا ہے۔اس کی تسکین کے لئے جب آپ اسلام کی تعلیم ان کو پہنچائیں گے تو پھر