خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 797
خطبات طاہر جلدم 797 دور میں احرار نے کی تھیں تو آپ نے ان کو ایک جواب دیا تھا۔آپ نے فرمایا: مجھے پکڑنے پہ قدرت کہاں تجھے صیاد که باغ حسن محمد کی عندلیب ہوں میں خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء ( کلام محمود صفحه : ۱۰۷) پس آج ساری جماعت کی طرف سے میں دشمنوں کو یہی جواب دیتا ہوں کہ ہمیں پکڑنے کی قدرت کہاں تجھے صیاد که باغ حسن محمد کی عندلیب ہیں ہم اور حسن محمد کی تو ہر منزل ایک نئی منزل کی طرف کھینچ کر لے کر جاتی ہے ایک نئی منزل کا پتہ دیتی ہے۔اس لئے آپ کے مقدر میں آگے سے آگے بڑھنا ہے، مڑ کر دیکھنا نہیں ہے کہ ہم کیا چھوڑ آئے ہیں۔اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے ، اس پر تو کل کرتے ہوئے ، اس سے دعائیں مانگتے ہوئے حسن محمد کی نئی منازل کی طرف بڑھتے چلے جائیں اور خائب و خاسر دشمن پیچھے بیٹھا رہ جائے گا۔اس کو توفیق نہیں ہے کہ نیک باتوں میں آپ کا کوئی تعاقب کر سکے۔بدیوں میں وہ جو چاہے کرتا پھرے اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔وہ اس کا مقام ہے ، وہ اس کو زیب دیتا ہے لیکن نیکیوں میں کوئی ہم سے آگے بڑھ سکے اس کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا اس لئے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ عہد لے کر اٹھیں کہ ہم ہر نئے مرکز کو جو خدا ہمیں عطا فرما تا چلا جائے گا اس کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی دی ہوئی توفیق کے نتیجہ میں جلد سے جلد اللہ سے محبت کرنے والے، پیار کرنے والے، اللہ کے رسول سے محبت کرنے والے اور پیار کرنے والے خدا کے بندوں سے بھرتے چلے جائیں اور یہی ہمارے تحفے ہیں خدا کے حضور اور یہی ہمارے شکرانے کا اظہار ہے اور جب آپ بھرتے چلے جائیں گے تو خدا آپ کو نئے وسیع تر مراکز عطا فرما تا چلا جائے گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی جمعہ کے بعد انشاء اللہ عصر کی نماز بھی ساتھ ہی ہوگی۔ابھی ہم نے سفر پر جانا ہے۔عصر کی نماز کے معاً بعد دو نماز جنازہ غائب ہوں گے۔ایک حاجی عبدالسمیع صاحب ربوہ میں وفات پاچکے ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد مجھے پتہ چلا ان کے بیٹے عبدا لصبور ناصر جو آج کل ہمبرگ میں