خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 796

خطبات طاہر جلدم 796 خطبه جمعه ۲۰ / ستمبر ۱۹۸۵ء قیامت آئی پڑی تھی۔تو یہاں بھی اللہ تعالیٰ آپ کے لئے جگہ مہیا فرمائے گا انشاء اللہ قریب ہی۔ہم نے جائزہ لیا ہے اور جو جائزے لئے ہیں ان میں کوشش یہی ہوگی کہ بہت ہی اچھی کھلی جگہ ملے اور یہاں بہت شاندار مسجد بنائی جائے جو تاریخی حیثیت رکھتی ہو اور تمام جرمنی کی مسجدوں میں سب سے زیادہ بڑی اور نمایاں ہو۔اگر چہ وہ دولتیں ہمارے پاس نہیں ہیں جو دنیا کے ممالک کی دولتیں ہیں جنہوں نے تیل کی دولت سے یا دوسری دولتوں سے مسجدیں بنائی ہیں لیکن خدا کے فضل اتنے ہیں کہ ناممکن ہے کہ اگر آپ خلوص نیت سے دعا کریں کہ اے خدا! ہمیں سب سے بڑی، سب سے شاندار مسجد عطا کر تو وہ مسجد نہ عطا کر دے۔اب تو وہ دینے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے۔اس لئے ان دعاؤں کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت وسیع جگہ بھی مل جائے گی اور بہت ہی اچھی ، خوبصورت، شاندار مسجد بھی نصیب ہو جائے گی لیکن اس کی شان آپ ہیں یہ یاد رکھیں۔ظاہری شان تو صرف لوگوں کو کھینچنے کے لئے ہے۔اگر آپ تقویٰ لے کر اس مسجد میں نہ گئے ، اگر آپ نے مسجد کو بھرنے کی کوشش نہ کی تو پھر وہ بے شان کی مسجد ہوگی۔اس لئے ابھی سے اس کی تیاری شروع کر دیں۔جتنی وسیع مسجد ہو یہ عہد کریں کہ ہم نے جلدی سے جلدی اس کو بھرنا ہے اور جب آپ مسجد بھریں گے خدا آپ کو لازماً اور مسجد عطا فرما دے گا۔اس طرح یہ دور ہے جو لا متناہی ترقیات کا دور ہو جاتا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے اس دور کو اپنے آگے بھی دیکھ رہے ہیں ، اپنے پیچھے بھی ، اپنے دائیں بھی ، اپنے بائیں بھی۔اس دور میں سے اس طرح گزر رہے ہیں جس طرح پہاڑ پر چلتے چلتے کوئی رحمتوں کے بادل میں داخل ہو جاتا ہے، چاروں طرف سے بادل گھیر لیتے ہیں۔آج جماعت احمد یہ اللہ کی رحمتوں کے بادل میں گھر چکی ہے۔اس کے قطرات کو اپنی زبان پر ، اپنے سر آنکھوں پر لے رہی ہے اس لئے اس دور سے پورا فائدہ اٹھائیں۔دشمن کی باتوں سے آپ کو کیا خوف ہو سکتا ہے وہ تو بے چارے نادان ہیں ، جاہل ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم جماعت احمدیہ کا تعاقب کریں گے، جہاں جائیں گے ہم ان کے پیچھے پیچھے پاکستان کا مولوی کہتا ہے ہم ان کا تعاقب کریں گے۔ان کی حیثیت کیا ہے آپ کا تعاقب کرنے کی؟ آپ خدا کی جماعت ہیں، آپ کی پرواز میں خدا کی عطا کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔آپ کی دوڑیں تو اللہ کی قدرت سے نصیب ہونے والی دوڑیں ہیں۔آپ کو پکڑ کون سکتا ہے؟ آپ کا تعاقب کر کون سکتا ہے؟ اسی قسم کی باتیں جب حضرت مصلح موعود کے