خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 761 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 761

خطبات طاہر جلدم 761 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء بھی رحمت للعالمین بن سکو۔اس جہت میں جتنی بھی نیکیاں عطا ہوتی ہیں وہ اس قسم کے حوصلوں کی پستی سے عطا ہوتی ہیں۔چنانچہ حیرت کی بات ہے کہ آپ نے جتنے خدمت خلق کے کام کئے ہیں دوسری ذمہ داریوں کے علاوہ ان کا شمار اگر کیا جائے تو میرے خیال میں ایک بھی انسان اس وقت ایسا نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے وہ سارے شمار کر لئے ہیں کیونکہ کچھ ظاہر بھی تھے اور کچھ خفی بھی تھے اور آپ کی خدمت کے کام اس کثرت کے ساتھ مختلف جہتوں میں پھیلے ہوئے تھے کہ عملاً کسی کے لئے اس وقت ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ شمار کر سکے۔ان کا کا غذات میں ذکر نہیں ملتا ان کا ان ٹرسٹس میں ذکر نہیں ملتا جوان ٹرسٹس انہوں نے قائم کئے تھے۔اس کثرت کے ساتھ آپ نے غرباء کی خدمت کی ہے کہ ضمنا جب بعض اوقات مجھے واسطہ پڑتا تھا اس وقت یہ معاملہ دکھائی دیتا تھا۔یعنی بعض ایسے غرباء تھے جنہوں نے خود آ کر ضمنا ذ کر کیا کہ اس مصیبت ، اس تکلیف میں مبتلا تھے چوہدری صاحب کو صرف اطلاع بھیجی اور اس کے نتیجے میں اس کے بعد پھر اس معاملے میں ہمیں کوئی فکر نہیں ہوئی۔غرباء، یتامی ،غریب مزدور، غریب کسان، مفلوج لوگ ، بعض بیماریوں میں مبتلا ، ہونہار طالب علم جو غریب تھے غرضیکہ اتنی جہتوں کے ساتھ آپ نے خدمت خلق کا کام کیا ہے اور اتنی جہتوں میں آپ نے خدمت خلق کا کام کیا ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ اداروں کو بھی کھلے ہاتھ سے دیا کرتے تھے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ساری زندگی کی کمائی ادھر خرچ ہو رہی ہے۔اور پھر جب آپ جماعتی چندوں پر نگاہ ڈالتے ہیں اور جماعتی خدمات پر نظر کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ساری کمائی اس کے سوا کہیں خرچ ہی نہیں ہو رہی۔ایسی وسیع حوصلگی کے ساتھ آپ نے چندے دیئے ہیں۔اس وقت جو لنڈن مشن کی ساری عمارتیں ہیں یہ ان کی ذاتی کوشش سے کلیۂ ذاتی آمد سے آپ نے یہ سارے مصارف ادا کئے ہیں۔یہ مشن ہاؤس، یہ ہال یہ چھوٹا ہال عورتوں کے لئے یہ عمارت رہائشی یہ ساری خدا کے فضل کے ساتھ ان کو توفیق ملی۔اور اپنے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ رکھا ہوا تھا، بس اسی میں ان کی گزراوقات تھی اور وہ بھی آخر وقت تک نہیں رہی۔جب جماعت کو ضرورت پیش آئی ہے آخر پہ یا شاید اس لئے کہ وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے تھے زیادہ تو بہر حال وہ بھی چھوڑ کے چلے گئے تھے۔