خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 760

خطبات طاہر جلدم 760 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء کی جڑ سے ساری عمر اس طرح چمٹے رہے ہیں کہ اصلُهَا ثَابِتُ (ابراہیم :۲۵) کا مضمون دکھائی دیتا تھا۔جڑوں کے لحاظ سے مضبوط تھے، ثابت قدم تھے، وفادار تھے۔جو بات کہی اس پر قائم رہے۔طبیعت میں کوئی دوغلہ پن نہیں تھا، زبان سے کچھ اور عمل سے کچھ اور ، اس قسم کے تضاد کا آپ کی ذات میں کلیۂ فقدان تھا۔چنانچہ اس کے بعد جو آپ کو خدمات کی توفیق ملی ہے وہ اس کا ایک طبعی نتیجہ تھا اس کو کسی اور جستجو کی ضرورت نہیں رہتی جس کو یہ دو چیزیں نصیب ہو جائیں یعنی تقوی کا یہ ماحصل مل جائے کہ خدا کی محبت کھونے کا خوف اور اس کی محبت حاصل کرنے کی تمنا اس کے لئے باقی سب چیزیں آسان ہو جاتی ہیں۔باہر سے دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ بڑی قربانی ہو رہی ہے، بڑا زور مار رہا ہے، قدم قدم پر اس کی تمناؤں کا خون ہو رہا ہے، مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہے لیکن ایسا انسان اندرونی کیفیت خود جانتا ہے کہ بس وہ پہلی دو چیزیں تھیں جو مشکل تھیں۔فی الحقیقت تقویٰ کے مفہوم کو سمجھ کر اس سے چمٹ رہنا یہ ہے سب سے مشکل مقام بعد میں پھر سب منازل آسان ہو جاتی ہیں۔حیرت انگیز زندگی ہے اتنی بھر پور ہے کہ چند دن ہوئے ہیں ایک MP ملنے کے لئے آئے ، چوہدری صاحب کا افسوس کر رہے تھے۔تو میں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایک ذات کا افسوس کر رہے ہیں۔وہ تو ایک ذات کے طور پر زندہ نہیں رہے ، ان کے اندر تو کئی شخصیتیں زندہ تھیں بیک وقت انہوں نے بہت سی زندگیاں گزاریں ہیں اور پھر خدا کے فضل سے لمبے عرصہ تک مسلسل کئی شخصیتیں ان کے اندر بھر پور زندگی گزارتی رہی ہیں۔لوگ ان کو ایک خشک سیاست دان کے طور پر بھی دیکھتے رہے اور ساری عمر یہی سمجھتے رہے اور اس لحاظ سے بھی وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے بھر پور زندگی گزاری ہے لیکن کچھ لوگوں نے ان کو ایک صاحب دل کے طور پر، ایک نہایت ہی نازک جذبات رکھنے والے انسان کے طور پر بھی دیکھا، ایسا انسان جس کے اندر یہ طاقت نہیں تھی کہ کسی غریب کا دکھ برداشت کر سکے۔جس کے حوصلے بلند ہونے کے باوجود یہ حوصلہ نہیں تھا کہ انسانیت کو سسکتا ہوا دیکھے اور بے حسی سے گزر جائے۔ان پہلوؤں سے حوصلے کا قد بہت ہی چھوٹا تھا بلکہ زمین کے ساتھ بچھا ہوا تھا اور روحانی اصطلاح میں اور اسلامی اصطلاح میں بجز کے ایک یہ بھی معنی ہیں کہ جہاں تک دنیا کے دکھوں کا تعلق ہے ان کے احساس کے لحاظ سے اپنے حوصلوں کو پست کر دو تا کہ تم