خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 762
خطبات طاہر جلدم 762 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء اور اس کے علاوہ بھی مختلف وقتوں میں جب تحریکات ہوئی ہیں خصوصا حضرت مصلح موعود کے زمانے میں جب ساری جائیداد پیش کرنے کی تحریک ہوئی اس وقت آپ ساری جائیداد پیش کرنے میں اولین میں سے تھے اور جس طرح کہ ان کے اندر تقویٰ اور نیکی تھی صاحب عزم تھے۔اس خط سے بھی ظاہر ہے جو میں نے پڑھ کے سنایا ہے۔جب آپ نے وقف کیا تھا تو مراد یہی تھی کہ ایک پائی کی جائیداد بھی میں اپنے لئے نہیں رکھوں گا اور وہ اس بات کے لئے تیار تھے۔جن خطرات کے پیش نظر حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک کی وہ خطرات پیش نہیں آئے۔اس لئے وہ جائیداد نہیں لی گئی یہ مجھے علم ہے لیکن اس کے علاوہ بھی جب بھی جتنی ضرورت پیش آئی ہے کبھی ایک لمحہ کا بھی تر دو آپ نے محسوس نہیں کیا بلکہ کوشش یہ ہوتی تھی کہ حضرت مصلح موعود خود معین کر دیں اس طرح لے لیں جیسے آپ کی چیز ہو یہ کیفیت تھی آپ کے چندوں میں جو ہمیشہ اسی طرح رہی۔اور سیاست کی بھر پور زندگی تو اتنی وسیع زندگی ہے کہ اس میں سے ساری باتوں کا ذکر تو ویسے ہی ممکن نہیں۔قوموں پر جو احسان کرنے کی خدا تعالیٰ نے آپ کو توفیق عطا فرمائی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ کثرت سے دوسرے بھی برکت حاصل کریں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پٹے گی۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے مقام پر پہنچایا جہاں واقعہ ہر قوم نے اس سرچشمے سے پانی پیا۔یعنی United Nations کی آپ کو صدارت نصیب ہوئی اور وہ دور United Nations کی تاریخ میں اگر کسی ایک تعریف کے ساتھ یاد کیا جائے تو وہ United Nations کا اخلاقی دور کہلائے گا۔تمام اسلامی ، اخلاقی قدروں کو آپ نے وہاں نافذ کیا ہے۔اور وہ ایک دور تھا جبکہ دہر یہ سیاست دان بھی جو United Nations میں حصہ لیا کرتے تھے وہ بھی احترام سے اور سنبھل کر بیٹھا کرتے تھے اور کوئی بد خلقی کی بات نہیں کیا کرتے تھے۔یہ جو Booing یا تماشہ بینی اور تحقیر کے الفاظ استعمال کرنا، غصہ میں آپے سے باہر ہو جانا یہ ساری حرکتیں اس وقت United Nations میں مفقود تھیں اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور قرآن کریم سے استنباط کرنا اور اخلاقی تعلیم دیتے چلے جانا قطع نظر اس کے کہ کوئی مانتا بھی ہے کہ نہیں آپ کو یا قرآن کریم کو یہ آپ کا شیوہ تھا۔ایسی جرات خدا نے عطا فرمائی تھی اور بات میں ایسی عظمت تھی کردار کے نتیجے میں کیونکہ بات کو