خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 716

خطبات طاہر جلدم 716 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ کا مضمون دو اشکال پیدا کرتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جگہ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم خالی دنیا کی حسنہ مانگو گے تو تم آخرت کی حسنہ سے محروم کر دیئے جاؤ گے اور اس دعا کو ناپسند فرماتا ہے اور ایسی دعا کرنے والوں کے متعلق تنبیہ فرماتا ہے جو کہتے ہیں رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةًاور جو دعا سکھائی وہ صرف یہ ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً تو یہاں تو ان کا قصہ بظاہر دنیا میں ہی چکا دیا۔فرمایا لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ور پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا میں ان کو حسنہ مل گئی تو کیا وہ آخرت سے محروم رہ جائیں گے اور یہی ان کی جزاء ہے ساری قربانیوں کی۔قانت اللہ ہونے کی۔خدا کی خاطر رات کو اٹھ کر سجدوں اور قیام میں گزارنے کی خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے کی یہ عجیب جزاء خدا نے دی ہے کہ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو حَسَنَةً کا لفظ استعمال کیا ہے وہ دنیاوی اموال کے لئے استعمال نہیں بلکہ نیکیوں کے لئے استعمال کیا ہے جہاں رد کیا ہے فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وہاں ان لوگوں کی دعا کو رد کیا بچن کے نزدیک حَسَنَةٌ کا تصور دنیا کی دولتیں ، دنیا کے عیش، دنیا کے اموال اور دنیا کی وجاہتیں ہیں۔جب آپ اس حَسَنَةٌ کے ترجمہ کوملحوظ رکھ کے دعا کرتے ہیں کہ ربنا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً تو یہ رد کرنے کے لائق دعا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ادنی اور گھٹیا مطالبہ کو پسند نہیں فرماتا۔لیکن جب خدا کے بندوں کی طرف ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی دعا منسوب ہوتی ہے یا اللہ وعدہ کرتا ہے کہ تمہیں دنیا کی حَسَنَةً دوں گا تو وہاں حَسَنَةً اسلامی اصطلاح کی حَسَنَةً ہے اور حَسَنَةٌ کا جہاں جہاں قرآن کریم میں لفظ استعمال ہوا ہے اچھے معنوں میں نیکیاں اور اعلیٰ درجے کی صفات ہیں۔تو اس آیت کا اول معنی تو یہ ہے کہ لِلَّذِینَ اَحْسَنُوا جن لوگوں نے اپنے اعمال کو حسین بنانے کی کوشش کی بہت سے معنی ہیں ان میں سے ایک معنی یہ ہے۔اَحْسَنَ کہتے حسن بخشنا کسی چیز کی تزئین کرنا۔ان کے اعمال موت کا انتظار نہیں کیا کرتے کہ وہ مر جائیں تو پھر جا کے ان کے اندرحسن پیدا ہو۔وہ لوگ جو دیانت داری سے تقویٰ کے ساتھ ، خلوص نیت کے ساتھ اپنے اندر تحسین پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اپنے اندر مزید حسن داخل کرنا چاہتے ہیں، اپنے اعمال اور اپنے اخلاق کی تزئین کرنا چاہتے ہیں فرمایا دنیا میں تو ان کو یہ تزئین عطا ہو