خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 715
خطبات طاہر جلدم 715 خطبه جمعه ۲۳ / اگست ۱۹۸۵ء کہ جو زندگی کا مقصد ہے اس کو پا جائے ، جو سب سے بڑا خزانہ ہے اس خزانے تک اس کی پہنچ ہو جائے اور دنیا کی دولتوں پر راضی نہ ہو بلکہ ماوراء کی دولتوں پر اس کی نظر ہو اور جو خالق ہے اس سے تعلق باندھے نہ کہ مخلوق کے دام میں پھنس جائے اور یہ سب عقل کی تعریفیں ہیں اگر عقل کے لئے کوئی تعریف بنائی جائے ، یہ ایک الگ مضمون ہے لیکن میں نے اس پر بہت غور کر کے دیکھا ہے اس سے بہتر عقل کی کوئی اور تعریف ہو ہی نہیں سکتی اور نہ ان صفات کے بغیر انسان کی عقل کامل ہو سکتی ہے مگر بہر حال آئندہ کسی موقع پر جب خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو میں اس پر روشنی ڈالوں گا۔آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لِعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمُ لِلَّذِينَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان کر دے! کہہ دے! اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ يقيناً وہ لوگ جو اس دنیا میں احسان کا معاملہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اسی دنیا میں حسنہ رکھ دی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس کا پہلی آیت اور پہلے مضمون سے کیا تعلق ہے۔یہ بھی چونکہ ابھی آدھی آیت پڑھی ہے میں نے جب بقیہ آیت پڑھوں گا تو وہ تعلق خود بخود ظاہر ہو جائے گا۔وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ أَنَّمَا يُوَفَّى الصبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابِ اللہ کی زمین وسیع ہے، یہ محاورہ ہے وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں خدا کے نام پر خدا کی وجہ سے ، خدا سے تعلق اور پیار کے نتیجہ میں کسی پر زمین تنگ کرنے کی کوشش ا کی جاتی ہے۔وہ ہجرت پر مجبور ہو جاتا ہے یا اپنے وطن میں ہی اس پر اس کی زمین ،عرصہ حیات تنگ کر دیئے جاتے ہیں۔اس موقع پر خدا تعالیٰ اَرضُ اللهِ وَاسِعَةٌ کا محاورہ استعمال فرماتا ہے۔اِنَّمَا يُوَفَّى الصُّبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ یقینا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بِغَيْرِ حِسَابِ اجر عطا فرماتا ہے اس نے اور بات کو کھول دیا کہ پہلا مضمون بھی انہی لوگوں کا تھا جو خدا کی راہ میں صبر کرنے والے، دکھ اٹھانے والے اور دکھوں کے وقت اور سکھوں کے وقت دونوں حالتوں میں اللہ ہی کی طرف جھکے رہنے والے۔جب وہ خدا کے نام پر صبر کرتے ہیں، خدا کے نام پر مزید دکھ اٹھاتے ہیں تو پھر ان سے خدا کا کیا سلوک ہوتا ہے یہ اس آیت میں مذکور ہے۔اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ یہاں اَحْسَنُوا