خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 717 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 717

خطبات طاہر جلدم 717 خطبه جمعه ۲۳/اگست ۱۹۸۵ء جاتی ہے، ان کے اعمال کا حسن دنیا دیکھ لیتی ہے، ان کے اندر ایسی پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ دنیا کو بھی حسین نظر آنے لگتے ہیں في الدُّنْيَا حَسَنَةً ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ دعوی کہ ہم خدا کی راہ پر چل رہے ہیں اور حقیقت میں ہم تحسین کر رہے ہیں دنیا کو بھی اور اپنے اعمال کو بھی حسن بخش رہے ہیں اور عملاً اس دعویٰ کے بعد نہایت مکروہ اعمال ہوں ، ایسے اعمال جو اپنوں کو بھی اس دین سے متنفر کر دیں جس طرف وہ منسوب ہو رہا ہے اور غیروں کو بھی متنفر کر دیں۔قرآن کریم کے اس بیان کے مطابق ان کا دعوی ہی جھوٹا ہے۔اگر کوئی اس دعوے میں سچا ہے کہ ہم احسان کرنا چاہتے ہیں اور تحسین کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اعمال ان کی تصدیق کریں۔ان کے اخلاق اور کردار میں وہ حسن دنیا دیکھنے لگ جائے اور آخرت کا وعدہ نہ ہو کہ یہ لوگ آخرت میں جنت میں جائیں گے۔فرمایا اگر ان کی دنیا ہی حسین نہیں بنی یعنی خدا کی نظر میں وہ اپنے حسین اعمال دنیا میں پیش نہیں کر سکتے تو پھر آخرت کی امید چھوڑ دیں۔اگر یہاں حسن عطا نہیں ہوا تو آخرت میں بھی ان کو کوئی حسن عطا نہیں ہوگا۔تو ایک تو یہ معنی ہے اور احسان کے دعوی کرنے والوں کے اوپر یہ معنی اطلاق پاتا ہے اس لحاظ سے کہ انہوں نے دعوی کیا ہم حسین کام کرتے ہیں، ہم اصلاح کی غرض سے آئے ہیں، ہم نیکیاں پھیلانے کے لئے آئے ہیں تو فرمایا یہ تو کوئی ایسا مشکل معاملہ نہیں ہے اسی کسوٹی پر تم پر کھے جاؤ گے۔جس حسن کا تم دعوی کرتے ہو وہ اس دنیا میں اگر تمہارے اندر نہیں نظر آتا تو تم جھوٹے ہو۔دوسرا معنی ہے خدا کی طرف سے جزا کے طور پر حسن اور وہ لفظ حسنة نہ صرف نیک اعمال پر اطلاق پاتا ہے بلکہ ہر قسم کی نیک جز پر بھی اطلاق پاتا ہے۔جب خدا فرماتا ہے کہ میں تمہیں حسنة عطا کروں گا تو صرف یہ مراد نہیں ہوا کرتی کہ میں تمہیں نیک اعمال بخشوں گا، میں تمہیں نیک اخلاق عطا کروں گا، تمہاری روحانی شکلوں کو حسین بنادوں گا بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ میں تمہیں ہر قسم کی وہ عطا دوں گا جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی حسن پایا جاتا ہے۔تو یہاں معنی وسیع ہو جاتے ہیں۔تو فرمایا کہ وہ لوگ جو حقیقی معنوں میں احسان کا سلوک کرتے ہیں اور اپنے اعمال کو حسین بناتے ہیں اور غیروں سے بھی احسان کا سلوک کرتے ہیں ان کے لئے میرا یہ وعدہ نہیں ہے کہ وہ جب تک مریں گے نہیں ان کو جز انہیں ملے گی اس دنیا میں بھی ان کے لئے جزا مقدر ہے اور اسی دنیا میں وہ اپنے اعمال کے نیک