خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 714
خطبات طاہر جلدم 714 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء نے وہ حصہ چھوڑ دیا بلکہ اس میں تو عقل کے لئے ایک چیلنج ہے کہ یہ جو بعد کی خاموشی ہے اس خاموشی کے اندر کچھ چیزیں چھپی ہوئی ہیں بہت سی حکمتیں ہیں جو خفی ہیں تو ان امکانات پر غور کرو اور تلاش کرو کہ خاموشی میں خدا تعالیٰ نے کیا کیا جواب رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ قانت میں ایک یہ بھی جواب ہے کہ جہاں خدا کے بندے اپنے تعلقات میں قانت ہو جاتے ہیں خدا ان کے بارے میں اپنے تعلقات میں قانت ہو جاتا ہے اور خدا کا سلوک بھی ان سے مخفی اور پردہ راز میں رہتا ہے اس کی تفصیل بیان نہیں فرماتا۔وہ جانتے ہیں جن سے خدا کا وہ سلوک ہوتا ہے یا اللہ جانتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ اس زمانہ میں سب سے زیادہ صاحب تجربہ ہیں بلکہ وہی ہیں جن سے یہ تجربے دوبارہ اس دور میں زندہ ہوئے آپ نے اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں خدا سے ہمارا ایک تعلق ہے جس کو کوئی آنکھ پہچان نہیں سکتی ،کوئی جان نہیں سکتا وہ تعلق کیا ہے اور اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایک تعلق ہے جس کو دنیا کی آنکھ مجھ ہی نہیں سکتی۔اس تک اس کی رسائی ہی نہیں ہے۔تو یہ جو خاموشی ہے جواب میں یہ فصاحت و بلاغت کا کمال ہے۔اس قانت کا جواب دیا جارہا ہے کہ اے میرے بندو! تم جو قانت ہواور میرے بارہ میں اپنے پیار اور محبت کے ایک حصے کو چھپاتے ہو اور صرف اس حصہ کو ظاہر کرتے ہو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں تو میں بھی تمہارے لئے قانت بن جاتا ہوں اور جو سلوک میں تم سے غیروں کے مقابل پر کروں گا اس کا ایک حصہ تو میں ظاہر کرتا ہوں لیکن ایک حصہ چھپانے والا بھی ہوں اور وہ لذتیں وہ ہیں جن سے صرف تم آشنا ہو گے اور تمہارا غیر اس تصور کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ يقين اہل عقل ہی ہیں جو ان باتوں سے نصیحتیں پکڑتے ہیں اور سبق حاصل کرتے ہیں۔يه أولُوا الْأَلْبَابِ کا مضمون قرآن کریم میں اور جگہ بھی ادا ہوا ہے اور وہاں بھی یہی عبادت کا، قیام و سجود کا مضمون ہے۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ ( آل عمران : ۱۹۲)۔وہ کون ہیں اُولُوا الالباب پہلی صفت ان کی یہ ہے وہ خدا کی خاطر راتوں کو اٹھ کر قیام بھی کرتے ہیں اور قعود بھی کرتے ہیں۔تو یہاں وہی اُولُوا الْأَلْبَابِ مذکور ہیں اور یہ قرآن کریم کی اصطلاحیں ہیں۔عقل سے کیا مراد ہے؟ قرآنی اصطلاح میں عقل اس بات کو کہتے ہیں